شاہ چارلس کو مادر ملکہ کے انتقال کی خبر کہاں ملی، وہ کیا کر رہے تھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چونکہ ہزاروں سوگوار بدھ کی شام سے ملکہ الزبتھ دوم کے تدفین کے تابوت کی ایک جھلک کے لیے لندن کے تاریخی محل ویسٹ منسٹر کے باہر انتظار کر رہے ہیں۔ ایسے میں آنجہانی ملکہ کہ وفات کے بارے میں کچھ حیران کن معلومات سامنے آ رہی ہیں۔

یہ پتہ چلتا ہے کہ بادشاہ چارلس سوم کو ایک فون کال سے ملکہ کی وفات سے چند لمحے قبل علم ہوا۔ اس کال کے کچھ ہی دیر بعد پوری دنیا میں ملکہ کی وفات کی خبر پھیل گئی تھی۔

فون کال کی تفصیلات

اخبار "نیوز ویک" کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ پتہ چلا کہ اس وقت کے شہزادے کو اس کال سے پہلے آنجہانی ملکہ کی صحت کے بارے میں کوئی تفصیلات معلوم نہیں تھیں۔

معلومات میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ چارلس کو معلوم ہوا کہ ان کی والدہ کا انتقال ہونے والا ہے۔ انہیں یہ افسوسناک خبر اس وقت ملی جب وہ اسکاٹ لینڈ کے ڈمفریز ہاؤس میں اپنی اہلیہ کیملا کے ساتھ تھے۔ ان کے معاونین انہیں یہ اطلاع دینے کے لیے پہنچ گئے کہ ملکہ الزبتھ کی صحت میں تبدیلی آئی ہے۔

دریں اثنا کیملا سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے بیٹے جینا بش کے ساتھ ٹیلی ویژن انٹرویو ریکارڈ کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ تیاری کے دوران دالان میں دوڑتے قدموں کی آواز سنی جس سے یہ لگا کہ گھر میں کچھ گڑ بڑ ہو گئی ہے۔

انہوں نے چارلس کو ایک یا دو گھنٹے کا وقت نہیں دیا

بش نے بتایا کہ ملکہ کی موت سے ایک رات پہلےاس نے چارلس کے ساتھ رات کا کھانا کھایا تھا، جبکہ کیملا ان کے ساتھ نہیں تھی۔

اس نے کہا کہ انٹرویو جو اگلے دن مقرر تھا اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب چارلس کو معلوم ہوا کہ 96 سالہ الزبتھ اسکاٹ لینڈ میں بھی بالمورل کیسل میں بستر مرگ پر ہے۔

ذرائع کے مطابق چارلس کو کال موصول ہوئی جس میں سب کو خاموش رہنے کا کہا گیا جب کہ جگہ پر خاموشی تھی۔ پھر رات ساڑھے 12 بجے شہزادے اور ان کی اہلیہ کی ہیلی کاپٹر میں روانگی کا اعلان کیا۔ پھر واضح ہوا کہ یہ وہی وقت تھا جب اس نے ملکہ کی صحت گرنے کا اعلان کیا انہوں نے چارلس کو ایک یا دو گھنٹے نہیں دیے۔

موت کا اعلان

بتایا جاتا ہے کہ بکنگھم پیلس نے اس دن دوپہر 12:34 پر ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ملکہ کے ڈاکٹر ان کی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں اور انہیں طبی نگرانی میں رہنے کی سفارش کی ہے۔

اس کے فوراً بعد ملکہ کی موت کا اعلان ہوا، اس کے 70 سالہ دور حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد ان کا بیٹا چارلس بادشاہ کے طور پر تخت پر بیٹھا۔

اس کے علاوہ الزبتھ کی سرکاری تدفین آئندہ پیر کو دنیا کے مختلف ممالک کے صدور اور رہ نماؤں کی موجودگی میں کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں