"امینی" قتل کے خلاف مظاہرے جاری،ایرانی افسر سمیت مزید ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پولیس فورسز کے ہاتھوں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایرانی حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد دس ہو گئی ہے۔ العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے بتایا کہ تہران کے جنوب میں واقع غرمسار میں دو افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔

مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے ایران میں تین سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ پاسداران انقلاب کا ایک افسر بھی شامل ہے جو گذشتہ رات بلوچستان کے احتجاج میں مارا گیا تھا۔

کرد شہروں کے علاوہ تہران تبریز ،مشہد اور ہمدان جیسے درجنوں بڑے ایرانی شہر بھی اٹھ کھڑے ہوئے، اور ہزاروں کی تعداد میں ایرانی سڑکوں پر نکل آئے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اور حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ویڈیوزمیں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین میں سے خواتین نے اپنے سرسے اسکارف اتار کر آگ میں پھینک دیا جس سے سڑک روشن ہو گئی، جبکہ دیگر نے علامتی حرکات میں اپنے بال چھوٹے کر دیے۔ تہران میں مظاہرین کے درمیان ’’پردہ اور پگڑی نہیں مانتے، ہاں آزادی اور مساوات چا ہیے‘‘ کے نعرے سنائی دے رہے تھے۔

مظاہرے کئی شہروں میں، خاص طور پر شمالی ایران میں، بدھ کی رات لگاتار پانچویں رات ہوئے اور کارکنوں نے ارمیا اور سردشت سمیت شہروں میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی مظاہرین نے ایران میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سب سے بڑی تصویر کو بھی نذر آتش کیا، ایرانی پرچم جلانے کے علاوہ حکومت مخالف نعرے بھی لگائے۔

مظاہروں کا آغاز بدھ کو ایرانی یونیورسٹیوں جیسے تہران کی الزہرا یونیورسٹی اور ملک کے شمال میں تبریز یونیورسٹی میں مظاہروں سے ہوا۔

اسی دوران مہر خبررساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ موجودہ احتجاجی مظاہروں میں پہلی بار خواتین کے خصوصی یونٹ کے دستوں کو مظاہرین کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے شدید جبر کے باوجود ہزاروں شہریوں کو ایران کے مختلف شہروں سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا، جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیوں اور گیس کا استعمال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں