افغان دارالحکومت کابل میں نماز جمعہ کے بعد مسجد کے باہر دھماکہ ہوا جس کے باعث چار افراد جاں بحق اور دس افراد زخمی ہوگئے۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق "نماز جمعہ کے بعد جب لوگ مسجد کے باہر نکل رہے تھے تو اس دوران دھماکہ پیش آیا جس میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔"
د جمعې تر لمانځه وروسته له وزیر اکبرخان جامع مسجد څخه د خلګو د راوتلو په مهال له مسجد سره د تیریدونکي عمومي سرک پرسر چاودنه شوې.
— Khalid Zadran (@khalidzadran01) September 23, 2022
د پيښي قربانیان ټول ملکي خلګ او لمونځ کوونکي دي.
د تلفاتو په اړه به يې نورجزئیات وروسته له رسنیو سره شریک شي.
اطالوی این جی او کے زیر اہتمام چلنے والے ایمرجنسی اسپتال کے ذرائع کے مطابق اسپتال میں 14 افراد کو لایا گیا جن میں 4 افراد جانبر نہ رہ سکے۔
وزیر اکبر خان کا علاقہ کابل کے حساس علاقے میں موجود ہے جسے گرین زون کہا جاتا تھا۔ اس علاقے میں بہت سے غیر ملکی سفارتخانے اور دیگر اہم عمارتیں موجود ہیں۔
اس مسجد کو اس سے پہلے جون 2020 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس میں مسجد کے امام جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ کئی نمازی زخمی ہوئے تھے۔
-
سعودی وزارتِ خارجہ نے کابل میں روسی سفارت خانہ پرداعش کے بم حملے کی مذمت کردی
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں روسی سفارت خانے پر ...
بين الاقوامى -
کابل:داعش نےروسی سفارت خانہ کے باہرمہلک بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی
سخت گیرجنگجو گروپ داعش نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں روسی سفارت خانے کے قریب ...
بين الاقوامى -
کابل ڈرون حملہ،پاکستان نے امریکی ڈرونز کو فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی:ملا یعقوب
طالبان حکومت نے نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ امریکی ڈرونز کو افغانستان میں ...
بين الاقوامى