مہسا امینی کے والدین نے تہران میں بیٹی کی گرفتاری کے خلاف شکایت درج کرادی

اقوام متحدہ کا ایران سے مظاہرین کے خلاف ’غیر متناسب طاقت‘کے استعمال سے بازرہنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں اخلاقی پولیس کے مبیّنہ تشدد سے قتل ہونے والی دوشیزہ مہسا امینی کے والدین نے پولیس کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔اس میں ان کی بیٹی کو ایران میں نافذالعمل سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارکرنے والے پولیس اہلکاروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

ایران کی ایسنا نیوزایجنسی نے وکیل صالح نیک بخت کے حوالے سے بتایا کہ ’’یہ شکایت ان کی بیٹی کی گرفتاری کے مجرموں‘‘ اورپھر دوران حراست اس سے پوچھ تاچھ کرنے والے پولیس اہل کاروں کے خلاف درج کرائی گئی ہے۔

طاقت کا غیرمتناسب استعمال

درایں اثنااقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایرانی صدرابراہیم رئیسی پر زور دیا ہے کہ وہ پولیس حراست میں نوجوان خاتون کی ہلاکت کے بعد سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کے خلاف '’غیرمتناسب طاقت‘‘کا استعمال نہ کریں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ گذشتہ ہفتے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پرایک دوطرفہ ملاقات میں، گوتریس نے صدر رئیسی کو انسانی حقوق کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، بہ شمول اظہار رائے کی آزادی، پرامن اجتماع اور تنظیم کے حق کی پاسداری کی جائے۔

دوجارک نے ایک بیان میں کہا:’’ہمیں مظاہروں میں شریک خواتین اور بچوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش لاحق ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ گوتریس نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور سب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔

انھوں نے ایران کی اخلاقی پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والی نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کی "فوری، غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات" کا بھی مطالبہ کیا۔ان کی پُراسرار موت کے ردعمل میں ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں اور ان میں دسیوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رئیسی کے دفتر نے گذشتہ ہفتہ کے روز احتجاج کو "فسادات" قرار دیا اور "ملک اور عوام کی سلامتی اور امن کے مخالفین کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر زوردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں