سعودی ویژن 2030

سعودی ویژن 2030 ڈیجیٹل معیشت اور ای کامرس کا ’ٹربوچارجر‘ ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے خطے میں چیک آؤٹ ڈاٹ کام کے سینیّرنائب صدر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا ویژن 2030 مملکت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں نمایاں کردارادا کررہا ہے اور ایک طرح سے ’’ٹربوچارجنگ‘‘ کا کردار ادا کررہا ہے اور اس کی وجہ سے ملک ڈیجیٹل ادائی اورای کامرس میں اعلیٰ نمو کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

ریمو جیوانی ایبونڈنڈولو نے کہا کہ سعودی ویژن 2030 کے تحت اپنے اہداف کے حصول کے ساتھ ’’درست راستے پر‘‘ہے۔2016 میں ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کے شروع کردہ وسیع تراقتصادی اور سماجی اصلاحات کے تحت 2025 تک نقد کرنسی کے بغیر لین دین کے حصے کو 70 فی صد تک بڑھانا ہے۔

جمعرات کو ڈیجیٹل ادائی کا کام کرنے والی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ 91 فی صد سعودی باقاعدگی سے آن لائن خریداری کرتے ہیں، جبکہ 14 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ دن میں کم سے کم ایک بار ایسا کرتے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں متعارف کردہ ای کامرس کے رجحانات اب برقرار رہنے کے لیے ہیں۔

Checkout.com کی سالانہ رپورٹ صارفین کے طرزعمل اور مجموعی طور پر مارکیٹ کے رجحانات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سال بہ سال کے اعداد و شمار کو ٹریک کرتی ہے۔اس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ تین سال میں، سعودی عرب کے ای کامرس اور فن ٹیک شعبوں میں ’’زبردست تیزی‘‘ دیکھی گئی ہے اور اس کا ڈیجیٹل ادائی کا ماحولیاتی نظام پھل پھول رہا ہے۔

ریموجیوانی نے کہا کہ 2021 کے بعد پہلی بار سعودی عرب میں الیکٹرانک ادائی نقد رقم سے زیادہ ہو رہی ہیں۔ یہ واضح ہے کہ سعودی صارفین ڈیجیٹل لین دین کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اوریہ کہ ملک اپنے ویژن 2030 کے مالی اہداف کے حصول کے لیے مستقل اور پائیدار طور پر کام کر رہا ہے۔

’’سعودی عرب ویژن 2030 کے تحت اپنی ڈیجیٹل معیشت کوٹربوچارج کررہا ہے۔یہ نہ صرف ہماری رپورٹ کے اعداد وشمارسے واضح ہے ، بلکہ صارفین اور تاجروں کے ساتھ ہماری زمینی گفتگو سے بھی یکساں طور پرواضح ہے۔ ہماری 2022 کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب میں ای کامرس ایک مستحکم، اعلیٰ ترقی کے دور میں داخل ہوگیا ہے، جس میں ای کامرس کے کھلاڑیوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔ان کاکہنا تھا۔.

ایسالگتا ہے کہ مملکت میں ای کامرس کی اس تیزی میں متعدد عوامل کارفرما رہے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی بات انٹرنیٹ تک رسائی کی انتہائی اعلیٰ شرح ہے جوقریباً 93 فی صد ہے۔

جیسا کہ سعودی صارفین آن لائن زیادہ وقت اور پیسہ خرچ کرتے ہیں، ای کامرس میں ان کی دل چسپی بڑھتی جا رہی ہے. کمپنی کو توقع ہے کہ کرپٹو اور ڈیجیٹل والے جدید نئے ادائیگی کے طریقوں کے لیے صارفین کی ترجیحات میں مستقل جھکاؤجاری رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق، 18 سے 40 سال کی عمر کے قریباً 44 فی صد افراد نے ڈیجیٹل اثاثے جیسے کرپٹو، مستحکم سکے اور غیرمتبدل ٹوکن (این ایف ٹی) رکھے ہیں۔

اس کے علاوہ، اسی عمر کے گروپ کے 54 فی صد افراد نے کہا کہ وہ کرپٹو یا مستحکم سکوں کے ساتھ سامان اور خدمات کے لیے آن لائن ادائی کرنا چاہتے ہیں۔

’’ڈیجیٹل ادائیوں کے لیے مستقبل واقعی بہت روشن ہے، سعودی عرب میں 78 فی صد صارفین کا کہنا ہے کہ وہ 2023 میں ای کامرس کے اخراجات کی موجودہ سطح کو برقرار رکھیں گے یا اس میں اضافہ کریں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ مالی شمولیت، جدت طرازی اور معاشی ترقی سعودی ویژن 2030 کی بنیادیں ہیں۔ فنانشل سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ویژن کے مالیات سے متعلق پہلوؤں پرعملدرآمد کر رہا ہے، ایک پائیداراور خوش حال معاشی شعبے کی ترقی پر کام کر رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ غیرنقد لین دین کا حصہ 2019 میں 36 فی صد تھا۔اب اسے بڑھا کر 2025 تک 70 فی صد کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں