کمبل کے نیچے سوئی بچی تھائی لینڈ کے قتل عام میں معجزانہ طورپر محفوظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمال مشرقی تھائی لینڈ کے ایک نرسنگ ہوم میں گذشتہ ہفتے ایک 3 سالہ بچی معجزانہ طور پر ایک کلاس روم کے کونے میں کمبل کے نیچے سونے کی وجہ سے قتل سے بچ گئی تھی۔

اس کے والدین نے بتایا کہ بیبی پیونت سوبولونگ جسے "ایمی" کے نام سے جانا جاتا ہے عام طور پر ہلکی نیند سوتی ہے، لیکن جمعرات کو نیند کے وقت جب قاتل ایک نرسنگ ہوم میں گھس گیا اور 22 بچوں کو قتل کیا تو وہ چہرے پر کمبل اوڑھے جلدی سے سو گئی۔

"رائٹرز" کے مطابق شاید بچی کے بچ جانے والی واحد وجہ اس کا کمبل میں سو جانا تھا۔

وہ نرسنگ ہوم کی واحد بچی تھی جو سابق پولیس افسر بنیا خمراب کے اُٹے ساون قصبے میں ایک حملے میں 30 سے زیادہ افراد کو ہلاک کرنے کے بعد بغیر کسی نقصان کے زندہ بچ گئی۔

صدمے کی حالت

ایمی کی والدہ پنوم بائی سیٹونگ نے کہا کہ "میں صدمے میں ہوں۔ مجھے دوسرے خاندانوں کے لیے افسوس ہے۔ میں خوش ہوں کہ میری بیٹی بچ گئی۔ یہ دکھ اور تشکر کا ملا جلا احساس ہے۔"

ایمی کے والدین نے یہ بھی واضح کیا کہ لگتا ہے کہ انہیں یہ سانحہ یاد نہیں ہے۔ قاتل کے جانے کے بعد کسی نے اسے کلاس روم کے ایک دور کونے میں گھومتے ہوئے پایا۔ پھر اس کا سرڈھانپ کروہاں سے لے جایا گیا اس نے اپنے ساتھیوں کی لاشیں نہیں دیکھیں۔

پولیس کے مطابق چاقو کے وار سے ہلاک ہونے والے 22 بچوں میں سے، 11 کی موت اس کلاس روم میں ہوئی جہاں وہ سو رہے تھے، دو دیگر بچوں کو سر میں شدید چوٹوں کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں