ایران مظاہرے

ایران:احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں 125 ’فسادیوں‘پرفردِجُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں عدلیہ نے گذشتہ ماہ نوجوان خاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرِحراست موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں 125افراد پرفردِ جُرم عایدکردی ہے۔

ایران میں 16 ستمبرسے مہسا امینی کی پُراسرارموت کے ردعمل میں مظاہرے جاری ہیں۔متوفیہ کو اخلاقی پولیس (گشت ارشاد) نے تہران میں خواتین کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے سخت ضابطۂ لباس کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارکیا تھا۔وہ اس کے چند گھنٹے کے بعد بعد کومے میں چلی گئی تھیں اورتین روز بعد ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

پولیس نے ملک کے مختلف شہروں سے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پرسیکڑوں گرفتاریاں کی ہیں اور استغاثہ نے ’فسادیوں‘ کو فوری طور پرقانون کے کٹہرے میں لانے اورانصاف دلانے کا عہد کیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق صوبہ تہران میں ’حالیہ فسادات‘ کے الزام میں 60 افراد پر فرد جُرم عاید کی گئی ہے اور جنوبی صوبہ ہرمزگان میں 65 افراد پر فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

ہرمزگان کے چیف جسٹس مجتبیٰ گہرایمانی نے میزان آن لائن کو بتایا:’’فسادیوں نے غیرقانونی اجتماعات، آتش زنی اور سرکاری اور نجی املاک پر حملوں میں مرکزی کردارادا کیا ہے اور آبادی میں دہشت پھیلائی ہے،استغاثہ نے ان مقدمات میں ان کے خلاف تیزی سے تحقیقات کی ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ 25ستمبرکوایرانی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ ہُرمزگان میں 88 مظاہرین کوگرفتارکیا گیا ہے اور شمالی صوبوں قریباً 1،200 مظاہرین کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ ان میں 60 خواتین بھی شامل ہیں۔

تہران کے پراسیکیوٹرعلی صالحی نے اس ویب گاہ کو بتایا:’’آج سے، جو افراد بھی لوگوں کے جان و مال،پولیس،فوجیوں یا شہری انفراسٹرکچر پر حملے کرتے ہیں، یالوگوں کو فسادات کے لیے اکساتے ہیں یا ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ان سے فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں