ایران

ایران سے روس کو ڈرونز کی فروخت سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی:فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ روس کو ایرانی ڈرونز کی فروخت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک سابقہ قرارداد کی خلاف ورزی ہوگی۔اس قرارداد میں ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی توثیق کی گئی تھی۔

روسی فورسزنے جمعرات کوعلی الصباح یوکرین کے دارالحکومت کیف کے مغرب میں واقع چھوٹے قصبے مکاریف پر تین ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس قصبے میں بنیادی ڈھانچے کی اہم تنصیبات کو ایرانی ساختہ خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی ترجمان این کلیئر لیجنڈری نے روزانہ کی آن لائن بریفنگ میں کہا کہ ’’ہم نے بہت سی معلومات اکٹھی کی ہیں۔ان میں یوکرین میں روس کی مسلح افواج کی جانب سے ایرانی ڈرونز کے استعمال کی اطلاع دی گئی ہے۔ان کے ذریعے شہری اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا اوریہ فعل ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتاہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ پیرس اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ اس معاملے میں تعاون کر رہا ہے کہ روس کو ایرانی ڈرونز کی ممکنہ منتقلی کا جواب کیسے دیا جائے۔

ان کے بہ قول روس کو ایرانی ڈرونز کی اس طرح دستیابی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادنمبر2231 کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔اس کے ذریعےایران اور چھے عالمی طاقتوں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکاکے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے کی توثیق کی گئی تھی۔

اس کے تحت تہران کی یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیوں کو محدود کردیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ایران کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

اس کے علاوہ اس قرارداد کے تحت اکتوبر 2020 تک ایران پر اسلحہ کی تجارت پرپابندی عاید تھی۔ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2018ء میں ایران سے جوہری معاہدے کو یک طرفہ طورپرخیرباد کَہ دیا تھا لیکن انھوں نے ایران کے خلاف اسلحہ کی تجارت پر عاید پابندیاں برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی۔

ٹرمپ کے تحت امریکا کی ان کوششوں کے باوجود ایران پراسلحے کی پابندی میں توسیع کی تجویز کو سلامتی کونسل نے مسترد کردیا تھا جس سے ایران کی ہتھیاروں کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔

تاہم ،اس قرارداد کے ذریعے ایران پراب بھی میزائلوں اور متعلقہ ٹیکنالوجیز پرپابندیاں برقرارہیں جو اکتوبر 2023 تک جاری رہیں گی اوراس میں جدید فوجی نظام کی برآمد اور خریداری بھی شامل ہے۔

ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ زیربحث ایرانی ڈرون میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم (ایم ٹی سی آر) کے تحت آتے ہیں۔ یہ ریاستوں کے مابین ایک غیررسمی سیاسی تفہیم ہے جو میزائلوں اور میزائل ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ایران سے ڈرونز کی روس کو فروخت اس پابندی کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔

اس وقت مذکورہ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور ایران اورمغرب کے درمیان تعلقات تیزی سے کشیدہ ہو رہے ہیں جبکہ ایرانی شہریوں نے مہلک ریاستی کریک ڈاؤن کے باوجود حکومت مخالف مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں اور مغربی حکومتیں ایرانی حکام پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں نت روز پابندیاں عاید کررہی ہیں۔

ادھریوکرین نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں روس سے ایرانی ساختہ شہید-136 ڈرونز کے ساتھ حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی اطلاع دی ہے جبکہ ایران نے روس کو ڈرون مہیا کرنے کی تردید کی ہے اور کریملن نے ابھی تک اس موضوع پرکوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔روس یوکرین میں اپنے’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ میں شہریوں کو نشانہ بنانے سے بھی انکاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں