مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مصری معیشت کو سہارا دینے کے لیے فوجی کمپنیوں کو اسٹاک ایکسچینج میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مصری ایوان صدر نے اعلان کیا کہ صدر نے کل منگل کو ایک میٹنگ کی تاکہ مسلح افواج سے وابستہ کمپنیوں کو اسٹاک ایکسچینج میں پیشکش کی جائے۔ ان کی ملکیت کی بنیاد کو بڑھایا جائے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے۔
مصر کے ایوان صدر کے سرکاری ترجمان سفیر بسام راضی نے بتایا کہ صدر السیسی کو فوج سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی پیشکش کے طریقہ کار کے بارے میں بریفنگ دی گئی تاکہ وہ اسٹاک ایکسچینج میں اپنے حصص کی تجارت کریں، خاص طور پر نیشنل پیٹرولیم کمپنی اور صافی کمپنی کو اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کا موقع دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کا مقصد معیشت کو سپورٹ کرنے میں اپنی مختلف کمپنیوں کے ساتھ نیشنل سروس اتھارٹی کے تعاون کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کمپنیوں کے پاس بڑی صلاحیتیں ہیں جو انہیں جامع ترقیاتی عمل میں مؤثر طریقے سے حصہ ڈالنے کے قابل بناتے ہیں جس کی ریاست اس وقت مختلف شعبوں میں تلاش کر رہی ہے۔
پانی کے بارے میں موقف
متعلقہ سیاق و سباق میں مصری صدر نے وادی کے جنوب میں زمین کی بحالی کے منصوبوں کے پانی کی صورت حال کا جائزہ لیا، مصر کے طے شدہ پانی کے حصے کے مطابق دریائے نیل سےمصر کو سالانہ ساڑھے 55 بلین مکعب میٹرملتا ہے۔
اس مقصد کے لیے منگل کو منعقدہ ایک اجلاس کے دوران مصری وزیر آبپاشی نے شرکت کی۔ انہوں نے صدر السیسی کو توشکا، عوینات اور نیوڈیلٹا کے علاقوں سمیت جمہوریہ کی سطح پر ریگستانی زمین کی بحالی کے مختلف منصوبوں میں موجودہ کام کے حجم کے بارے میں بتایا گیا۔
میٹنگ کے دوران توشکا پراجیکٹ کی عمومی پوزیشن پیش کی گئی جس میں پراجیکٹ کے اندر بحالی کے لیے اضافی زمینی علاقوں کے جغرافیائی محل وقوع کے علاوہ علاقے کی ٹپوگرافی، اس کی پانی کی ضروریات سے متعلق مطالعات کا بھی جائزہ لیا گیا۔