سعودی ٹیم کی جیت میں اندرون ملک حمایت کااہم کرداررہا،مگرایران اس سےمحروم ہے:مبصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطرمیں جاری عالمی کپ فٹ بال ٹورنا منٹ میں ارجنٹائن کے خلاف سعودی عرب کی تاریخی فتح کے بعد ایک تجربہ کارایرانی مبصر اور پنڈت نے کہا ہے کہ یہ کامیابی مملکت کی جانب سے قومی ٹیم کو حاصل بے پایاں حمایت کی مرہون منت تھی جبکہ ایرانی ٹیم کواپنے ملک میں اس طرح کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

جواد خیابانی نے منگل کے روز قطر میں ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ارجنٹائن کے خلاف سعودی عرب کی 2-1 کی فتح کے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی پرکہا:’’جس ٹیم کو اپنے عوام کی حمایت حاصل نہیں،وہ کسی بھی قیمت پرکچھ بھی حاصل نہیں کرسکتی،وہ بے وقعت ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ایرانی عوام کواپنی ٹیم کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ وہ کامیاب ہوسکے۔آج سعودی عرب کی ٹیم کی کامیابی کی وجہ اندرون ملک ان کی قومی حمایت تھی جبکہ اس سے ایک روز قبل ایران کی قومی ٹیم کی شکست کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کو قوم کی حمایت کا فقدان تھا‘‘۔

بہت سے ایرانی ملک میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں اپنی فٹ بال ٹیم کے خلاف ہو گئے ہیں۔وہ ٹیم کو عوام کے بجائے حکومت کی نمائندہ کے طورپردیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایران میں بہت سے لوگوں نے پیرکے روز انگلینڈ کے خلاف افتتاحی میچ میں ایران کی 6-2 کی شکست کا جشن منایا تھا۔

ایرانی کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے خلاف میچ سے قبل اپنے ملک کا قومی ترانہ بھی نہ گانے کا فیصلہ کیا تھا اوریہ ملک میں مظاہرین کی حمایت کا ایک واضح مظاہرہ تھا۔

دوحہ کے خلیفہ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں جب ایران کاقومی ترانہ بجایا گیا توایرانی کھلاڑی خاموش رہے جبکہ اسٹینڈز میں جمع ایرانی شائقین موسیقی بجاتے ہوئے چیخ پکاررہے تھے۔ کچھ انگوٹھے سے نیچے اشارے کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

لیکن بہت سے ایرانی اپنے قومی کھلاڑیوں کا اشارہ بہت تاخیر سے سمجھے ہیں۔ٹورنامنٹ کے اختتام پر وطن واپسی کے بعد کھلاڑیوں کو ممکنہ طور پر حکام کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا ہوسکتا ہے۔خاص طور پر اگروہ اپنے باقی دو پول میچوں میں دوبارہ ترانہ گانے سے انکار کرتے ہیں تو انھیں تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایرانی ٹیم جمعہ کو ویلز کے خلاف اور منگل کو امریکا کے خلاف میدان میں اترے گی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنی براہِ راست نشریات کے دوران میں میچ سے قبل کھلاڑیوں کی قطارمیں کھڑے ہونے کی فوٹیج کو سنسر کر دیا ۔اس وقت ترانہ بجایا گیا تھا۔

منگل کے روز خیابانی سرکاری میڈیا کی جانب سے شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں نظرآئے جو ممکنہ طور پر حکام کے دباؤ میں ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ’’میرے ایسے جملے نشر کیے گئے ہیں جو ایک طویل پیراگراف کا خلاصہ ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے ملک اورایران کی قومی فٹ بال ٹیم کو فخر ہو، لہٰذا براہ کرم میڈیا کی اس شرارت پرکان نہ دھریں اور اگرآپ میرے بیانات پرکوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو پورا پروگرام دیکھیں‘‘۔

ایران بھر میں 16ستمبر سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔یہ احتجاجی تحریک 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے زیرحراست موت کے ردعمل میں شروع ہوئی تھی۔انھیں تہران کی اخلاقی پولیس نے مبیّنہ طورپرحکومت کے سخت حجاب قوانین پر عمل نہ کرنے پر حراست میں لیا تھا۔

مظاہرین حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں جو 1979ء میں انقلاب کے بعد سے شیعہ مذہبی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔اوسلو میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے منگل کے روز بتایا کہ مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز نے 51 بچّوں اور27 خواتین سمیت 416 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں