ترکی:عدالتی فیصلہ کے بعد صدرایردوآن کےمتوقع مدمقابل لیڈرکاسیاسی کیریئرخطرے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکی میں ایک عدالت نے بدھ کے روزاستنبول کے ہائی پروفائل میئرکو انتخابی عہدے داروں کی توہین کے الزام میں قصور وار قرار دے کرقید کی سزا سنائی ہے، جس سے صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف ان کی ممکنہ انتخابی مہم خطرے میں پڑ گئی ہے۔

استنبول کی ایک عدالت نے اکرم امام اوغلو کو دو سال سات ماہ قید کی سزاسنائی ہے۔ اگراعلیٰ اپیل عدالتیں اس فیصلے کو برقرار رکھتی ہیں تو اس کے نتیجے میں حزب اختلاف کی مقبول سیاسی شخصیت امام اوغلو پرپابندی عاید ہو جائے گی اور وہ جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر ایردوآن کو شاید چیلنج نہیں کرسکیں گے۔

البتہ وہ آج کے بعد اعلیٰ عدالتوں کے حتمی فیصلے تک استنبول کے میئربرقراررہیں گے۔میئر اور ترک صدر کے درمیان تنازع 2019 میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات سے شروع ہواتھا اورامام اوغلو نے ترکی کے سب سے بڑے شہر کو صدر ایردوآن اور ان کی جماعت سے چھین لیا تھا اورمرکزی حزب اختلاف کی جماعت سی ایچ پی کے لیے حیرت انگیز فتح حاصل کی تھی۔خود طیب ایردوآن کا اپنا سیاسی عروج 25 سال قبل اسی شہرمیں شروع ہوا تھا اورانھوں نے استنبول میں انتخابی شکست کو ذاتی طور پر لیا تھا۔

ترکی کی سپریم الیکشن کونسل نے ایردوآن کے معاونین کے اثرورسوخ کے باعث امام اوغلو کی پہلی انتخابی کامیابی منسوخ کردی تھی۔تاہم انھوں نے میئر کے عہدے کے لیے دوبارہ پولنگ میں لینڈ سلائیڈنگ کامیابی حاصل کی تھی۔

امام اوغلو نے عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس کا عوامی جذبات پربھی اسی طرح کا اثرپڑے گا۔انھوں نے کہا کہ قوم نے ہمیں جو اختیارات دیے ہیں وہ چند لوگ چھین نہیں سکتے۔اللہ نے چاہا تو ہماری لڑائی مزید طاقتور ہو جائے گی‘‘۔

حزبِ اختلاف کی ریلیاں

حزب اختلاف کے رہنماؤں، بشمول سی ایچ پی کے کمال کلیچ داراوغلو اور آئی پارٹی کے میرل اکسینر نے امام اوغلو کی حمایت کا اظہارکیا ہے اور استنبول کے ضلع ساراچین میں مرکزی میونسپل عمارت کے سامنے ریلی نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امام اوغلو کی اپیل کے بعد ہزاروں افراد نے ترکی کے جھنڈے لہرائے اور میئر کی حمایت میں نعرے لگائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد امام اوغلو کوصدارتی انتخابات میں امیدوار بننے سے روکنا ہے۔

میئر پر الزام ہے کہ انھوں نے نومبر 2019 میں ایردوآن کے خلاف اپنی جیت کے چند ماہ بعد انتخابی کونسل کے ارکان کی توہین کی تھی جبکہ وہ کسی غلط کام کرتے ہیں۔انھوں نے ترک صدر پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ’’اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں‘‘۔

امام اوغلو نے اس وقت کہا تھا کہ ’’جنھوں نے 31 مارچ کو انتخابات منسوخ کیے وہ احمق تھے‘‘۔ان کی اس گفتگو کوحکام نے الیکشن بورڈ کے ججوں کی توہین سے تعبیرکیا تھا۔

اپیل عدالتیں اگرامام اوغلو کی سزا کی توثیق کردیتی ہیں تو پھر بلدیہ استنبول کی سٹی کونسل نئے میئر کا انتخاب کرے گی۔اس کونسل پرصدر ایردوآن کی حکمران جماعت آق کا غلبہ ہے۔

امام اوغلو قومی سطح پر ایک مقبول سیاسی شخصیت ہیں اور معتبر رائے دہندگان انھیں صدر کے عہدے کے لیے انتخاب میں ایردوآن کے ایک سخت حریف کے طورپردیکھتے ہیں۔

ترکی کے حزب اختلاف کے اتحاد نے ابھی تک چھے ماہ کے بعد ہونے والے انتخابات کے لیے مشترکہ امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے جبکہ یہ کہا جارہا ہے کہ صدر ووٹنگ سے قبل حزب اختلاف پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں ایک اعلیٰ اپیل کورٹ نے ایردوآن کی توہین کے الزام میں سی ایچ پی کی ایک اور اہم شخصیت کنعان کفتانچی اوغلو کو قریباًپانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔انھیں استنبول میں امام اوغلو کی فتح کے معمار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں