افغان زلزلہ متاثرین کو اقوام متحدہ کے ادارے کی مدد سےچھ ماہ بعد گھر مل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چھ ماہ پہلے بد ترین زلزلے کی زد میں آکرتباہی سے دوچار ہونےاور اپنے پیاروں سے محروم ہو کر زندہ رہ جانے والے افغانیوں کو نئے گھر مل گئے ہیں۔ یہ گھر اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق اداارے کی طرف سے بنا کر دیے گئے ہیں۔

افغان زلزہ متاثرین 5،9 کی شدت کے حامل زلزلے کے بعد 22 جون سے اب تک کا سارا عرصہ عارضی خیمہ بستیوں میں گذارا تھا۔ حتیٰ کہ سردی کی شدت کا آغاز بھی ان خیموں میں ہی ہو گیا۔

لیکن اب چھ ماہ گذرنے کے بعد انہیں نئے گھروں میں منتقل ہونے کا موقع ملا گیا ہے۔ ان نئے گھروں میں ہر گھرانے کی نجی زندگی کے تحفظ کے احساس کا بھی پورا خیال رکھا گیا ہے اور ہر گھر کے ساتھ الگ واش رومز کی سہولت دی گئی ہے۔

سردی کی شدت سے بچنے کے لیے روایتی ہیٹروں کا اہتمام بھی کمروں کے اندر کر کے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں شمسی توانائی کے حصول کے لیے سولر پینلز کا بھی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ متاثرین زلزلہ کو بغیر تعطل اور خرچے کے بجلی کی فراہمی بھی ممکن رہے۔

ان نئے گھروں میں رہائش اختیار کرنے والے زلزلہ متاثرین بڑے خوش ہیں کہ انہیں چھت مل گئی مگر ان کے زلزلے میں جاں بحق ہو کر بچھڑ جانےوالے پیاروں کی یادیں انہیں آج بھی اداس رکھتی ہیں۔انہی میں ایک رسول بادشاہ نامی افغانی ہے۔

اکیس سالہ رسول بادشاہ نے کہا ' جب میں زلزلے کا سن کر پاکستان سے یہاں واپس بھاگا تو میری والدہ ، میرا بھائی اور دیگر لوگ پہلے ہی دفن ہو چکے تھے۔ آج میں جھونپڑی سے اٹھ کر اپنے گھر میں ہوں مگر افسوس یہ ہے کہ اپنی ماں اور بھائی کے بغیر ہوں۔

زلزلے کا ایک اور متاثرہ شخص بارا خان نے بھی ان نئے تعمیر کردہ گھروں میں سے ایک کا مکین بنا ہے۔ اس کا کہنا تھا ' جب زلزلہ آیا تو لوگوں نے یہاں آکر دیکھا کہ یہاں کے لوگ اور پورا علاقہ زلزلے کیوجہ سے مشکل میں گھر چکا تھا۔ اس وقت ہمارے آس پاس کوئی کلینک بچا تھا نہ سکول، ہمارے بچ جانےوالے بچوں کا سکول جانا بھی ختم ہو گیا۔'

خیال رہے یو این ایچ سی آر نے سکولوں کے اس علاقے میں تعمیر کا کام شروع کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے ۔ اس کے علاوہ کلینک بھی قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ لیکن ابھی ان میں ہر جگہ ملبہ ہی پڑا ہوا ہے۔

فغانساتن جس کا اقتدار 15 اگست 2021 سے دوبارہ طالبان کے ہاتھ آچکا ہے مگر افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر غیرملکی بنکوں میں منجمد کر دیے گئے ہیں۔ ان حالات میں ملک بد ترین معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ اس لیے زلزلہ متاثرہ افراد کو افغانستان اپنی مدد اپ کے تحت بحالی میں مدد دینے کی پوزیشن مین نہ تھا۔

جبکہ افغانستان کا معروف پہاڑی سلسلہ کوہ ہندو کش ہمیشہ سے زلزلوں کا مرکز رہا ہے۔ کیونکہ یہ زیر زمین یوریشن اور انڈین ارضیاتی پلیٹوں کے سنگم کی جگہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں