پیرس میں فائرنگ میں ملوّث ملزم کا’غیرملکیوں سے اظہارِنفرت‘:استغاثہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تین کرد افراد کے قتل کے الزام میں زیرِحراست مشتبہ شخص نے تفتیش کاروں کے روبرو بیان میں غیرملکیوں سے نفرت' کا اظہارکیا ہے۔

انہترسالہ شخص نے جمعہ کوپیرس کے دسویں ضلع میں کرد ثقافتی مرکز اور قریبی کرد کیفے میں دو مردوں اور ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔اس کو اس واقعے کے فوری بعد پولیس نے گرفتار کرلیاتھا۔

استغاثہ کے وکیل لارے بیکو نے ایک بیان میں کہا کہ مشتبہ شخص نے پوچھ گچھ کے دوران میں کہا کہ 2016 میں اس کے گھر میں چوری کی واردات نے ’’غیرملکیوں کے خلاف نفرت کو جنم دیا تھا اور وہ مکمل طورپرنفسیاتی مریض بن گیا تھا‘‘۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس شخص نے خود کو ڈپریشن میں مبتلا اور خودکشی کا رجحان رکھنے والا قرار دیا ہے اوربتایا کہ اس نے حملے کے بعد آخری گولی سے خودکشی کا منصوبہ بنایا تھا۔

حکام نے مشتبہ شخص کے والدین کے گھر کی تلاشی لی ہے،وہ ان ہی ساتھ رہتا تھا اور اس کو انتہا پسند نظریات سے کسی بھی تعلق کا ثبوت نہیں ملا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس نے پہلے فرانسیسی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے میں ممکنہ متاثرین کی تلاش کی تھی لیکن پڑوس میں کچھ لوگوں کو تلاش کرنے کے بعد اس منصوبے کو ترک کردیا۔

کرد نمائندوں نے جمعہ کوہونے والی فائرنگ کو دہشت گردانہ حملہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔استغاثہ نے بتایا کہ مشتبہ شخص اتوار کے روز نفسیاتی یونٹ میں رہا ہے اور ایک ورز قبل ہفتے کوطبی بنیاد پراس سے پوچھ گچھ روک دی گئی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے تین دیگرافراد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ دو اب بھی ہسپتال میں زیر لاج ہیں لیکن ان کی زندگیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

استغاثہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ مشتبہ شخص کو حال ہی میں حراست سے رہا کیا گیا تھا۔اس کے خلاف ایک سال قبل پیرس میں تارکین وطن کے ایک کیمپ پر حملے کے مقدمے کی سماعت کی جارہی تھی۔

پیرس میں جمعہ کے روزکردکمیونٹی کی تین ہلاکتوں کے بعد مشتعل افراد اور پولیس کے درمیان ہفتے کے روزتشدد آمیزجھڑپیں ہوئی تھیں اور ان میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔شہرمیں مظاہروں کے روایتی مقام ری پبلک اسکوائر کے قریب متعدد کاریں الٹا دی گئی تھیں اورمظاہرین نے جگہ جگہ آگ لگا دی تھی۔پولیس کی جانب آتش گیرمواد پھینکا،اس کے جواب میں پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔

استغاثہ کے دفتر نے ہفتے کے روز کہا کہ مشتبہ شخص سے پوچھ گچھ کے بعد تفتیش کاروں نے قتل اور ہتھیاروں کے ساتھ تشدد کے ابتدائی الزامات میں ایک مشتبہ نسل پرستانہ مقصد کااضافہ کیا تھا۔

مشتعل ہجوم کی پولیس کے ساتھ جھڑپ کے بعد فرانس میں کرد ڈیموکریٹک کونسل (سی ڈی کے-ایف) نے ہفتے کے روز ری پبلک اسکوائر پراحتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔سیکڑوں کرد مظاہرین نے، جن میں مرکزی دسویں ضلع کے میئر سمیت سیاست دان بھی شامل تھے، جھنڈے لہرائے اورمقتولین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

دوروزقبل تین افراد کے قتل کا واقعہ جنوری 2013 میں پیرس میں تین کرد خواتین کے قتل کی برسی سے قبل پیش آیاہے۔اس مقدمے کو 2019ء میں دوبارہ کھولا گیا تھا لیکن اس کی سماعت سے کچھ ہی دیر قبل مرکزی مشتبہ شخص کی موت کے بعد تحقیقات ختم کردی گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں