حادثہ میں 9 پیاروں کو کھو دینے والے سعودی مصور کا ڈرائنگ میں جذبات کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے مصور کو اپنے خاندان کے 9 افراد کو حادثہ میں کھوئے ہوئے 2 سال بیت گئے ہیں تاہم اپنے پیاروں کو اپنی پینٹگنز میں وہ اب بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔

مصور شبیب الزمامی نے اپنا دکھ اور درد عوام کے ساتھ بھی بانٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وہ حادثہ میں جدا ہوجانے والے اپنے گھر والوں کو اپنی ڈرائنگ میں لا کر سوشل میڈیا پر نشر کرتے رہتے ہیں اور اس حوالے سے لوگوں سے بات چیت جاری رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں مصور شبیب نے ایک دردناک حادثے میں اپنے خاندان کے 9 افراد کی موت کی تفصیلات کا انکشاف کیا اور بتایا کہ اپنے آرٹ ورک کے ذریعے انہوں نے اپنے اہل خانہ کی یاد کو زندہ رکھا ہے۔ ان کا کام سوشل میڈیا پر آیا تو اسے بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی اور لوگوں نے اس کام کو بہت پسند کیا ہے۔

شبیب نے بتایا میں ڈھائی سال قبل ریاض کے پرنس سلطان ہسپتال کو دیکھنے کے لیے جا رہا تھا لیکن دارالحکومت میں داخل ہونے سے پہلے ہی میرا اور میرے اہل خانہ کو حادثہ پیش آیا اور ان میں سے 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔ مرنے والوں میں میری والدہ، میرا بھائی، میرا دو بہنیں، میرے بھائی کی بیوی اور 4 بچے شامل تھے۔

شبیب نے بتایا مجھے حادثے کے بعد بہت تکلیف ہوئی ہے۔ میں نے کام کرنا چھوڑ دیا، مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ گھر والوں کی یادیں مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ خدا مجھے اپنی والدہ کی قبر پر جانے کے لیے ایک کار سے نوازے گا۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ والدہ کی وفات کا ہوا۔ میری ماں ان برسوں کے دوران میری یادداشت میں رہیں کیونکہ وہ معذور تھیں۔ میں نے ہمیشہ ان کے ساتھ اپنی گفتگو کو تصاویر کی شکل دی ہے۔ پھر میں نے اپنے لئے ڈرائنگ بنانا اور محفوظ کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ میں نے ان ڈرائنگز کو شیئر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ تنہائی اور درد کے احساسات جو میں اپنے خاندان اور زندگی کو کھونے کے بعد محسوس کرتا ہوں میں نے عوام کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیا۔ عوام کی جانب سے میرے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا اور میرے کام کو پسند کیا گیا۔ اب میں نوکری کے مواقع کی تلاش میں ہوں۔ ایسا کام ہو جو مجھے دوبارہ بھرپور زندگی کی طرف لے آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں