سوڈانی وزارت صحت نے 2019 کے اواخر سے ہزاروں لاشوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ریاست خرطوم میں متعدد مردہ خانوں کی بحالی اور دیکھ بھال کا کام شروع کرنے کا اعلان کیا۔ جمعرات کی شام کو ایک پریس بیان میں کہا کہ فرانزک میڈیسن اتھارٹی اور ایڈوائزری کونسل نے "ریاست خرطوم میں امبدہ بشائر اور ام درمان کے مردہ خانوں کی بحالی اور دیکھ بھال کا کام شروع کردیا ہے۔ یہ مردہ خانے ابتر حالت میں پہنچ گئے تھے۔ بڑی تعداد میں لاشیں جمع ہونے سے یہاں بدبو پھیل گئی تھی۔ کئی لاشوں کو چوہوں نے بھی کھانا شروع کردیا تھا۔ مردہ خانے ماحولیات اور صحت کی تباہی کا شکار ہوگئے تھے۔
لاشوں کے لیے فریج کی فراہمی
کونسل نے کہا کہ بحالی کی کارروائیوں میں لاشوں کی منتقلی، انہیں الگ کرنا اور دفن کرنا شامل نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مردہ خانوں کی بحالی کی سرگرمیوں میں لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے متعدد ریفریجریٹرز فراہم کرنا، اناٹومی ہالز کی تیاری، لاشوں کی جگہ کا بندوبست اور انہیں مردہ تھیلوں میں رکھنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاشوں کو گلنے سڑنے سے بچانے کی اقدامات بھی کئے جائیں گے۔
نوزائیدہ بچوں کی لاشیں
بحالی میں نوزائیدہ بچوں کی لاشوں کو الگ کرنا اور کفن دینا، سٹورز کا انتظام کرنا ، بیرونی ہالوں کی صفائی کرنا ، ایئر کنڈیشنر کی دیکھ بھال کرنا، روشنی کا جائزہ لینا اور گٹروں کو کھولنا شامل ہے۔ یاد رہے کہ وزارت صحت نے اکتوبر 2022 میں لاشوں کے جمع ہونے کی وجہ سے خرطوم میں تمام مردہ خانے بند کرنے کی سفارش کی تھی۔مقامی میڈیا نے بتایا تھا کہ خرطوم کے مردہ خانے 2019 کے آخر سے 3 ہزار سے زائد لاشوں کو رکھنے سے قاصر ہیں۔