ورلڈ اکنامک فورم 2023 کی سرگرمیاں سوئس شہر ڈیووس میں شروع ہو گئیں۔ ’’ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دنیا میں تعاون‘‘ کے عنوان سے یہ سرگرمیاں 20 جنوری تک جاری رہیں گی۔ ان اجلاسوں میں سعودی وفد بھی شریک ہے۔
سعودی وفد کی شرکت
وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں سعودی وفد اس سال فورم میں اپنی شرکت کے دوران سعودی ’’وژن 2030‘‘ کے فریم ورک کے اندر ہونے والی پیش رفت اور تبدیلی و ترقی کے راستے پر روشنی ڈالے گا۔ اس وژن کا مقصد خوشحال اور متنوع معیشت حاصل کرنا ہے، ایک ایسی معیشت جو دنیا کے ساتھ مشترکہ تعاون کے مواقع کے لیے کھلی ہوئی ہو۔
سعودی وفد ڈائیلاگ سیشنز کے دوران اپنی شرکت میں دنیا بھر میں پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے، تجارتی تبادلے اور سپلائی چین کی لچک کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت پر بات کرے گا۔ سب کے لیے انرجی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دے گا۔
سعودی وفد فورم کے دوران عالمی برادری کے ساتھ اپنے تجربات کا اشتراک کرے گا کہ کس طرح وبائی امراض سے درپیش چیلنجوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ عالمی اقتصادی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرنے میں اپنی ٹھوس کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے مملکت کی طرف سے تیار کردہ بہترین حل اور طریقوں پر گہری بصیرت فراہم کرے گا۔
سعودی وفد میں کون کون ہے؟
فورم میں سعودی وفد میں خادم حرمین شریفین کی سفیر برائے امریکہ شہزادی ریما بنت بندر، وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر، وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد الفالح، وزیر مملکت برائے فنانس محمد الجدعان، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر انجینئر عبداللہ السواحہ، صنعت و معدنی وسائل کے وزیر بندر الخریف، وزیر اقتصادیات اور منصوبہ بندی فیصل الابراہیم اور رائل کمیشن برائے ریاض کے سی ای او فہد الرشید شامل ہیں۔