ایران نے یورپی یونین کوخبردارکیا ہے کہ وہ سپاہِ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کرخود اپنے پاؤں پرگولی مارے گی۔
ایرانی وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے یورپی یونین کے نمائندہ برائے امورخارجہ جوزف بوریل سے گفتگو میں یہ سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم باربار واضح کرچکے ہیں کہ پاسداران انقلاب ایک رسمی اور خودمختارتنظیم ہے۔اس کا کردارایران کی سلامتی کی ضمانت دینے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کےاقدامات ایک طرح سے خود یورپ کے پاؤں پرگولی مارنے کے مترادف ہیں۔
بدھ کے روز یورپی پارلیمان نے یورپی یونین پرزور تھا کہ وہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے اور اسے مقامی مظاہرین پرجبر اوریوکرین میں مصروف روسی فوج کو ڈرونزمہیا کرنے کا ذمہ دار قرار دے۔
ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ’’سفارت کاری کی دنیا میں باہمی سلامتی کا احترام اوردھمکیوں اور غیردوستانہ اقدامات کی زبان پر عمل کرنے کے بجائے باہمی اعتماد میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ پاسداران انقلاب کودہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی کسی بھی صورت میں ایران جوابی اقدامات کرے گا‘‘۔
ایران میں ستمبرمیں کرد ایرانی خاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پرحکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔متوفیہ کوخواتین پرعاید سخت ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں اخلاقی پولیس نے حراست میں لیاتھا۔
یورپی پارلیمنٹ نے ایران کی سکیورٹی فورسز، جن میں پاسداران انقلاب بھی شامل ہے، کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے اسے’سفاکانہ‘ قراردیا ہے۔