سعودی عرب اور برطانیہ کا خلا میں برقی توانائی پیدا کرنے کا مشترکہ منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی اخبارات میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور برطانیہ دونوں نے خلا میں بجلی پیدا کرنے اور اسے زمین پر منتقل کرنے کے ایک مشترکہ منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔

اخباری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے دونوں دوست ممالک برقی توانائی پیدا کرنے کے لیے دیو ہیکل سولر پینلز کا استعمال کرتے ہوئے توانائی کو ریڈیو لہروں کے ذریعے زمین تک پہنچانے کامنصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کاربن کے اخراج کے بغیر صاف توانائی پیدا کرنا ہے۔

کئی برطانوی اخبارات جن میں "ڈیلی میل" اور "دی ٹائمز" شامل ہیں کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک خلا میں صاف توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک مشترکہ پروجیکٹ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور پھر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اسے زمین پر منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے برطانیہ اور سعودی عرب دونوں ایسی توانائی پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی پیدا کیے بغیر دن لوگوں کو 24 گھنٹے بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔

اخبارات کا دعویٰ ہے کہ برطانوی کمپنی ’اسپیس سولر‘، جو کہ خلا میں شمسی توانائی کی پیداوار کے شعبے میں کام کرتی ہے، کو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا منصوبہ ہے جس کا انحصار دیو ہیکل گروپ کی تعیناتی پرہے۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق مجوزہ خلائی بجلی گھر کے ڈیزائن میں تقریباً ایک میل چوڑے اور تقریباً 2,000 ٹن وزنی سولر پینلز شامل ہوں گے۔ اسے روبوٹس کے ایک گروپ کے ذریعے آپریٹ کیا جائے گا۔ اسے زمین کے مدار میں رکھا جائے گا اور یہ منصوبہ تمام موسمی حالات کے باوجود زمین پر توانائی کی سہولت فراہم کرے گا۔

یہ منصوبہ برقی توانائی کی پیداوار میں تیزی پیدا کرے گا۔ اس میں شمسی پینل سے ریڈیو لہروں کو برقی توانائی میں تبدیل کرنے کے لیے ایک اسٹیشن کا قیام بھی شامل ہے، جس میں کئی میل چوڑے ایک بڑے نیٹ ورک کی شکل میں ایک دیو ہیکل اینٹینا استعمال کیا جائے گا۔ برطانوی اخبار نے بتایا کہ کیا کہ شمالی سمندر کے علاقے میں استقبالیہ اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز بھی اس اس منصوبے کا حصہ ہے۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے خلاء میں سولر پینلز کی تنصیب اور انہیں زمین پر واپس بھیجنے کا خیال ایک صدی سے زائد عرصے سے متعدد ماہرین اور توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ذہنوں میں ہے، لیکن اب تک اسے حقیقت میں بدلنا ممکن نہیں رہا۔

کئی ممالک کے درمیان اس حوالےسے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ان میں امریکہ، جاپان اور چین شامل بھی شامل ہیں جو خلا میں توانائی پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں