قیس سعید کی حکومت کے دوران تونس میں مخالفین پر نفسیاتی تشدد بڑھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دو ہزار اکیس میں برسر اقتدار آنے والی قیس سعید کی حکومت کی وجہ سے سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد ، ناروا سلوک اور نفسیاتی اذیتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ بات انسانی حقوق گروپ کی طرف سے بتائی گئی ہے۔

قیس سعید نے 25 جولائی 2021 کو پارلیمنٹ معطل کر کے تونس میں عرب بہاریہ کے نتیجے میں قائم ہونے والی واحد جمہوری حکومت کو ختم کر دیا تھا۔

عرب بہاریہ کے نتیجے میں آمر زین العابدین کی حکومت کے خاتمے کے بعد تونس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں نمایاں کمی آگئی تھی۔

لیکن عالمی سطح پر تشدد کےخلاف سرگرم تنظیم ' کی ہیلینے لیگے کا کہنا کہ قیس سعید کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے سیاسی مخالفین تک یہ تشدد بڑھا دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران نفسیاتی تشدد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس تشدد کے ذریعے آزادیاں متاثر کی جاتی ہیں، لوگوں سے ان کا سفری حق چھینا جاتا ہے، انہیں نظر بند کیا جاتا ہے اور پولیس کے چھاپے مارے جاتے ہیں۔

تشدد کے خلاف عالمی تنظیم نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا اس تشدد کے مرتکب افراد میں سے کسی کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی جاتی ہے۔ کسی تشدد کرنے والے اہلکار کو معطل کیا جاتا ہے نہ گرفتار کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں