یورپی پارلیمنٹ میں بدعنوانی کے اسکینڈل سے دو ارکان کا استثنیٰ ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی پارلیمنٹ کے اسکینڈل کے سامنے آنے کے دو ماہ بعد ایک یورپی پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ طور پر یورپی یونین کو ہلا کر رکھ دینے والے کرپشن کیس میں ملوث دو ارکان کا استثنیٰ ختم کرنے کی حمایت کی۔

یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب گذشتہ دسمبر میں بیلجیم کی پولیس نے برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے دفاتر کی تلاشی لی۔ اس دن یونانی نائب اسپیکر ایوا کیلی کو کرپشن کے شبے میں گرفتار کیا گیا، یہ گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب یہ ثابت ہواکہ انہیں قطر سے رقوم موصول ہوئی تھیں اور یہ رقوم انہیں اس لیے دی گئی تھیں کہ یورپی پارلیمنٹ میں دوحا کے مفادات کا دفاع کیا جا سکے۔

برسلز میں قانون ساز رشوت لینے کے الزامات کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر بیلجیئم کے مارک تربیلا اور اطالوی اینڈریا کوزولی کی سربراہی میں مزید ارکان سے استثنیٰ ختم کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

23 ارکان کا اتفاق رائے

یورپی پارلیمنٹ کی قانونی امور کی کمیٹی نے استثنیٰ کو ختم کرنے کے حق میں متفقہ طور پر ووٹ دیا، جس سے آج جمعرات کو پارلیمنٹ کے مکمل اجلاس کے دوران سفارش پر ووٹنگ کی راہ ہموار ہو گئی۔

بیلجیم کے حکام نے متعدد مقامات پر تلاشی کے بعد چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا، جس کے دوران ان سے 1.5 ملین یورو (1.6 ملین ڈالر) نقدی ضبط کی گئی۔

گرفتار ہونے والوں میں جن پر بدعنوانی، منی لانڈرنگ کے الزامات عاید کیے گئے ہیں کا تعلق ایک مجرمانہ تنظیم سے تھا۔ ان میں رکن پارلیمنٹ ایوا کیلی شامل ہیں جو یونانی رکن ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں