الریاض میں امریکا کے اعلیٰ وفد کی آمد،خطے سے وابستگی کی مظہر: سینیرعہدہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بائیڈن انتظامیہ کے سینیرعہدے داروں پرمشتمل اعلیٰ سطح کاوفد رواں ہفتے الریاض میں ہونے والے سکیورٹی اجلاس میں شرکت کرے گا۔اس میں ایران اوردیگر مشترکہ خطرات پر تبادلہ خیال کیاجائے گا۔

بائیڈن انتظامیہ کاوفد 13 سے 16 فروری تک امریکا اورخلیج تعاون کونسل (جی سی سی) پر مشتمل ورکنگ گروپ کے اجلاسوں میں شرکت کرے گا۔ وفد میں پینٹاگون، محکمہ خارجہ اور قومی سلامتی کونسل کے حکام شامل ہوں گے۔

امریکی حکام کے مطابق مربوط میزائل دفاعی اور میری ٹائم سکیورٹی دواہم موضوعات ہوں گے۔تاہم دیگرورکنگ گروپس ایران کی جانب سے درپیش خطرے کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایسے موضوعات پرتوجہ مرکوز کریں گے۔

ایران کے بارے میں ورکنگ گروپ کے لیے امریکی وفد میں خصوصی ایلچی راب میلی ہوں گے جبکہ مشرقِ اوسط کے لیے نائب معاون وزیرِدفاع ڈانا اسٹرول دیگرسکیورٹی ورکنگ گروپس کے لیے امریکی وفدکی قیادت کریں گی۔ان ملاقاتوں میں سینیر فوجی اور سویلین حکام بھی شرکت کریں گے۔

گذشتہ سال مارچ میں ہونے والے ورکنگ گروپ کے پہلے اجلاس کے بعداس ہفتے ہونے والے یہ دوسرے اجلاس ہوں گے۔گذشتہ سال اکتوبر میں اس حوالے سے بات چیت ہونا تھی لیکن اوپیک پلس کے رکن ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوارمیں کٹوتی کے فیصلے سے مایوسی کے بعدامریکا نے یہ اجلاس ملتوی کر دیے تھے۔واشنگٹن نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عاید کیا کہ ان کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کریملن کے یوکرین پر حملے کے بعد روس کا ساتھ دے رہے ہیں۔

تاہم امریکا کے ایک اعلیٰ دفاعی عہدہ دارکے مطابق بائیڈن انتظامیہ کی ماضی کی حکومت کی طرح جی سی سی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ایک اہم ترجیح رہی ہے۔عہدہ دارنے کہا کہ اس ہفتے ہونے والی بات چیت سے اس تاثرکی بھی نفی ہوسکے گی کہ امریکا خطے میں عدم دلچسپی کا شکار ہے اور مشرق اوسط سے نکل رہا ہے۔

ان ملاقاتوں سے قبل پینٹاگون میں صحافیوں کے ایک چھوٹے سے گروپ سے بات کرتے ہوئے عہدہ دار نے کہا کہ ’’میرے خیال میں اعلیٰ سطح کے حکام کا الریاض میں جی سی سی کے عہدے داروں کے ساتھ اس فارمیٹ میں ایک ہفتہ گزارنا درحقیقت اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ ایک غلط بیانیہ ہے‘‘۔

عہدیدارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا مشرقِ اوسط میں کافی مصروف اور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ صدرجوبائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت اپنے روایتی خلیجی اتحادیوں کے ساتھ امریکا کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

ان کی خارجہ پالیسی کے ابتدائی اقدامات میں دو خلیجی طاقتوں کواسلحے کی فروخت منجمد کرنا، ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو دہشت گردوں کی بلیک لسٹ سے نکالنا اور یمن میں عرب اتحاد کی "جارحانہ" کارروائیوں کے لیے امریکاکی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔

لیکن بائیڈن انتظامیہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تعاون کے فقدان سے مایوس ہو گئی ہے کیونکہ وہ برسوں سے جاری جنگ کا پُرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ایران نے بائیڈن انتظامیہ کی 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کی امیدوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

اورخطے میں امریکی مفادات اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے ایران کی مسلسل پشت پناہی کی وجہ سے واشنگٹن اب تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ترجیح نہیں دے رہا ہے۔

اس ہفتے ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد یہ ظاہرکرنا ہے کہ امریکی حکام جی سی سی ممالک کے ساتھ تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ناسا،امریکی بحریہ کی مرکزی کمان، امریکی فضائیہ کی مرکزی کمان، ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی اور کئی دیگر کے نمائندے الریاض میں ہوں گے۔

عہدہ دار نے خطے کے اجتماعی دفاع کوترجیح قرار دیتے ہوئے ایران یا اس کے حامیوں کی جانب سے فضائی، میزائل اور ڈرون خطرات کی نشان دہی کی اورکہاکہ امریکا معلومات کے تبادلے کے انضمام اور مشترکہ طور پران خطرات سے نمٹنے میں مدد کی امید رکھتا ہے۔

عہدہ دار نے کہا:’’اس بارے میں بات چیت کی جائے گی کہ ہرکسی کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، نہ صرف یہ کہ امریکاکیا کرنے جا رہا ہے، بلکہ ہمارے شراکت دار ہم سب کے لیے ایک ٹھوس علاقائی سلامتی ڈھانچا تیار کرنے کوبھی تیار ہیں جو خطے کے تمام شہریوں کو تحفظ مہیّا کرے‘‘۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا خطے میں مربوط فضائی اور میزائل دفاع کے بارے میں مختلف رویہ ہے، امریکی عہدہ دار نے کہا کہ خطرات کی نوعیت اور اصل واضح ہے۔انھوں نے کہا کہ ان خطرات کی اصل زیادہ ترایران کے ساتھ تعلقات ہیں۔انھوں نے العربیہ کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چاہے وہ جدید روایتی ہتھیاروں کا پھیلاؤ ہو، ڈرونز کا پھیلاؤ ہو، سمندر میں جارحیت ہو، یا برسرزمین پر آلہ کار اور دہشت گرد فورسز کی مالی اعانت،اسلحہ سازی، تربیت اور رہنمائی ہو۔لہٰذاہم یہاں ایک علاقائی سلامتی ڈھانچے کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو امریکا مسلط کر رہا ہے۔عہدہ دار نے کہا کہ علاقائی سلامتی کا ڈھانچا فطری طور پر دفاعی ہوگا۔

مشرقِ اوسط کے ممالک کو ممکنہ امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں عہدہ دار نے کہا کہ سعودی عرب کو درست گائیڈڈ گولہ بارود اور چھوٹے قُطر کے بموں کی فروخت پر بدستور روک لگی ہوئی ہے کیونکہ وہ انھیں جارحانہ سمجھتے ہیں۔تاہم، عہدہ دار نے کہا کہ علاقائی اتحادیوں کو اسلحے کی فروخت کو آگے بڑھانے کے لیے’’انتہائی اہم‘‘ ہےکیونکہ بائیڈن انتظامیہ نےکہا ہے کہ ہم اس بات کویقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے شراکت داروں کووہ کچھ ملے جس کی انھیں اپنے دفاع کی ضرورت ہے۔

اس ہفتے ہتھیاروں کی فروخت کا اعلان متوقع نہیں لیکن امریکااسرائیل جیسے اتحادیوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے کہ ضرورت پڑنے پرخلیجی شراکت داروں کو ہتھیارفروخت کریں۔

اگرچہ بائیڈن انتظامیہ نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات پرنظر ثانی کرے گی، لیکن امریکی حکام حالیہ مہینوں میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور نرم رویہ اختیارکیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں