اٹلی کے جنوبی علاقے میں تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے پاکستانیوں سمیت 30 سے زیادہ افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زندہ بچ گئے ہیں۔
اطالوی فائرفائٹرزسروس کے ترجمان نے اتوار کے روز کہا ہے کہ چھوٹے جہاز کو یہ حادثہ اسٹیکاٹو ڈی کٹرو کے قریب پیش آیا۔یہ کالبریا کے مشرقی ساحل پر سمندر کے کنارے واقع ایک ریزورٹ ہے۔
کالبریا میں فائر فائٹرز سروس کے ترجمان ڈینیلو مائدا نے خبر رساں ادارے رائٹرزکو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوزکر گئی ہے۔
اطالوی وزیراعظم جیورجیا میلونی نے اس واقعے پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سمندرکے ذریعے غیرقانون تارکین وطن کی نقل مکانی کو روکا جائے گا تاکہ مزید ایسے سانحات کو روکا جا سکے۔
ان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم جیورجیا میلونی انسانی اسمگلروں کی اس کارروائی میں انسانی جانوں کے ضیاع پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت تارکین وطن کی اس طرح آمدورفت کو روکنے اور ان کے ساتھ ایسے سانحات کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے اوراس ضمن میں اٹلی ان تارکین وطن کے آبائی ممالک سے زیادہ سے زیادہ تعاون کا مطالبہ کرتا ہے۔
انھوں نے مزیدکہا کہ فائرفائٹرز اور دیگر ہنگامی خدمات اپنے وسائل کے ساتھ سمندر میں مزید زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہی ہیں، لیکن حالات سخت تھے، جس کی وجہ سے تلاش مشکل ہو گئی تھی۔
اس سے قبل اطالوی خبر رساں ادارے اے این ایس اے نے خبر دی تھی کہ ساحل سمندر سے 27 لاشیں ملی ہیں اور مزید لاشیں سمندر میں دیکھی گئی ہیں۔اطالوی وزیر داخلہ ماتیو پیانٹیڈوسی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے جوغیر قانونی تارکین وطن چینلز کے خلاف سختی سے کارروائی کی اشد ضرورت کاتقاضا کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سمندری گذرگاہوں کے ذریعے تارکین وطن کی یورپ میں آمد کو روکنا ضروری ہے۔انسانی اسمگلر انھیں بہترزندگی کے گمراہ کن وعدوں کے ساتھ لے آتے ہیں اور اس طرح کے سانحات کا سبب بنتے ہیں۔
اپنے سرکاری ٹیلی گرام چینل پر فائر فائٹرز نے بتایا کہ انھوں نے 28 لاشیں برآمد کی ہیں اور اشارہ دیاکہ تارکین وطن کا چھوٹا جہاز ساحل کے قریب ڈوب گیا تھا۔خبررساں ادارے ایڈنکرونوس کے مطابق جہاز پر 100 سے زیادہ فراد سوار تھے جبکہ ایک اور اطالوی خبر رساں ادارے اے جی آئی کا کہنا ہے کہ مہلوکین میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔
ایڈنکرونوس نے بتایا کہ ایران، پاکستان اور افغانستان سے تارکین وطن کو لانے والا بحری جہاز خراب سمندری موسم کے دوران میں چٹانوں سے ٹکرا گیا۔
اٹلی سمندر کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے اہم گذرگاہوں میں سے ایک ہے جبکہ بحرمتوسط (بحیرہ روم) کا راستہ دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔
بین الاقوامی تنظیم برائے تارکین وطن اورلاپتاتارک وطن افراد کے کے منصوبے مطابق 2014 سے اب تک وسطی بحیرہ روم میں 20 ہزار 333 افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں۔