انسانی حقوق کمیشن کی صدر ڈاکٹر ’’ھلا التویجری ‘‘ نے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے سعودی عرب کے عزم کی توثیق کی ہے ۔ انہوں نے بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کی روشنی میں ثقافتی تنوع اور لوگوں کے درمیان مساوات کے احترام کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے لوگوں کی دیکھ بھال کو ترجیح دینے کی ہدایات کر رکھی ہیں۔
ھلا التویجری کی صدارت میں سعودی وفد جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 52 ویں اجلاس میں شریک ہے۔ ھلا التویجری نے ان خیالات کا اظہار اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کیا۔
التویجری نے انسانی حقوق کونسل کے سامنے سعودی عرب کی جانب سے کی گئی تقریر میں کہا کہ آج ہم انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کو اپنانے کی 75ویں سالگرہ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ اعلامیہ تمام انسانی حقوق کی بنیاد کی نمائندگی کرتا ہے ۔ ہم اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے مسلسل کوششوں اور زمینی تبدیلیوں کے حصول کی ضرورت ہے۔ اس اعلامیہ کے مقاصد واضح ہیں۔ انہوں نے کہا ہم سعودی عرب میں تاریخی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ وہ تبدیلیاں ہیں جو انسانی حقوق کے مختلف شعبوں میں بہت سی اصلاحات اور پیشرفت کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں نے ترقی اور معیار زندگی پر بہت اچھا اثر ڈالا ہے۔
ڈاکٹر التویجری نے کہا سعودی عرب آج اپنے ترقیاتی ’’ویژن 2030 ‘‘ کے فریم ورک کے اندر مختلف شعبوں میں بڑی اور بے مثال اصلاحات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی محور انسان ہے۔ انہوں نے کہا سعودی عرب نے اپنے قانون سازی کے نظام کو ترقی دینے کے لیے کام کیا اور بہت سے قوانین میں ترمیم کی ہے۔ ان ترامیم میں ثبوت کے نظام اور ذاتی حیثیت کے نظام میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ اصلاحات کا یہ عمل ابھی جاری ہے۔
ھلا التویجری نے بتایا کہ سعودی عرب نے 2016 سے 2022 کے دوران بے روزگاری کی شرح میں 11.6 فیصد سے 5.8 فیصد تک نمایاں کمی ریکارڈ کی ہے۔ ملازمت اور پیشے میں مساوی مواقع اور مساوی سلوک کی حوصلہ افزائی کے لیے قومی پالیسی بھی جاری کی گئی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ملازمت کے شعبہ میں کسی بھی امتیاز کو ختم کرنا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کی خاتون صدر نے اشارہ کیا کہ سعودی عرب نے خواتین کو بااختیار بنانے کے میدان میں حالیہ برسوں میں بڑی پیش رفت کی ہے۔ کیونکہ سعودی عرب کے ’’ویژن 2030 ‘‘ کا ایک سٹریٹجک ہدف لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرکت کو بڑھانا بھی ہے۔ 2017 سے 2022 کے عرصے کے دوران لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرکت 21.2 فیصد سے بڑھ کر 34.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی عرصہ میں خواتین کی اقتصادی شرکت کی شرح 17 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد تک ہوگئی ہے۔ 2017 سے لیکر 2021 کے دوران انتظامی عہدوں پر خواتین کی نمائندگی 28.6 فیصد سے بڑھ کر 39 فیصد تک آگئی ہے۔
انسانی ہمدردی کی کوششیں
ھلا التجویری نے اجلاس کو سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی انسانی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے ترکیہ ا ور شام میں آنے والے حالیہ زلزلہ کے تباہ کن اثرات کو کم کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔ خادم حرمین شریفین نے صحت، پناہ گاہ، خوراک اور لاجسٹک کے شعبوں میں امداد کے لیے فضائی پل تشکیل دیا اور امدادی طیارے ترکیہ اور شام روانہ کیے گئے۔ زلزلہ زدگان کے لیے اس وقت تک سعودی امداد 160 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
ڈاکٹر التویجری نے اپنی تقریر میں سعودی عرب کی مضبوط اقدار، اس کے اولین کردار، بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اس کی کوششوں، اور انسانی حقوق کے فروغ میں اس کی کوششوں پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے بتایا کہ روس اور یوکرین کے بحران میں سعودی عرب نے ثالثی کے لیے آمادگی کا اظہار کر رکھا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششوں سے روس اور یوکرین میں قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں لائی گئی۔
عالمی اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت
ڈاکٹر ھلا التویجری نے سعودی عرب کی جانب سے متعدد یورپی ممالک میں انتہا پسندوں کی طرف سے قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش کرنے اور ان کی بے حرمتی کرنے کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہا بین الاقوامی سطح پر طے شدہ اصولوں اور دفعات پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انسانی حقوق کے معیارات قومی، نسلی یا مذہبی منافرت کی کسی بھی وکالت کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ہر وہ اقدام جو امتیازی سلوک، دشمنی یا تشدد کو اکسانے کا باعث بنے وہ ممنوع ہے۔
سعودی عرب کی تقریر کے آخر میں محترمہ ڈاکٹر التویجر ی نے انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ تعمیری مکالمے، شفافیت اور معروضیت کے عزم اور ثقافت کے فروغ کے ماحول کو بہتر بنانے اور انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ انہوں نے کہا سعودی عرب کی خواہش ہے کہ تمام انسانی حقوق پر یکساں توجہ دی جائے تاکہ انسانی حقوق کی تکمیل کی جا سکے۔
انسانی حقوق کونسل نے اپنے 52 ویں اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوٹیرس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے صدر انسانی حقوق کے ہائی کمشنر چابا کوروشی کی موجودگی میں اپنے کام کا آغاز کیا۔