بھارتی عدالت نے بھوپال گیس سانحے کے متاثرین کے لیے معاوضے کی درخواست مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو بھوپال گیس سانحہ متاثرین کے لئے مزید معاوضے کے لیے حکومت کی درخواست خارج کر دی۔ انڈیا کی مرکزی حکومت نے 1984 کے بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین کو مزید معاوضہ ادا کرنے کے لیے یونین کاربائیڈ کارپوریشن کی جانشین فرموں سے اضافی 7,844 کروڑ روپے کی درخواست دائر کی تھی۔


3 دسمبر 1984 کے اوائل میں، ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت میں امریکی کمپنی کے ملکیتی کھاد بنانے کے کارخانے سے میتھائل آئسوسانیٹ گیس کا اخراج ہوا۔ اس رات نصف ملین سے زیادہ افراد زہریلی گیس کا شکار ہوکر بیمار ہوئے اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 5000 سے زائد لقمہ اجل بن گئے جبکہ آزاد زرائع کے مطابق تعداد کہیں زیادہ تھی۔

اس تباہی کے بعد، حکومت نے یونین کاربائیڈ پر مقدمہ دائر کیا اور کمپنی نے 1989 میں 470 ملین ڈالر ہرجانے کی رقم ادا کرنے پر اتفاق کیا۔

حکومت نے مزید ہرجانے کے لیے 2010 میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے منگل کو مرکزی حکومت کی پٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈاؤ کیمیکلز کے ساتھ معاہدے کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔

ڈاؤ کیمیکل، جو اب یونین کاربائیڈ کا مالک ہے، نے ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یونین کاربائیڈ کی جانب سے ہندوستانی حکومت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں طے کرنے کے ایک دہائی بعد کمپنی کو خریدا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "ہم اس واقعے کے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد بھی اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے کوئی دلیل پیش کرنے سے قاصر رہنے پر یونین آف انڈیا سے اتنے ہی غیر مطمئن ہیں۔"

1969 میں بنائے گئے یونین کاربائیڈ پلانٹ کو ہندوستان میں صنعت کاری کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جس سے غریبوں کے لیے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور ساتھ ہی، لاکھوں کسانوں کے لیے سستی کیڑے مار ادویات تیار ہوتی ہیں۔

اس سانحے میں زندہ بچ جانے والے ہزاروں افراد نے کہا ہے کہ وہ اور ان کے اگلی نسل ابھی تک صحت کے دائمی مسائل سے نبردآزما ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں