بوسنیا کا ترکیہ سے جنگی مجرم سابق جنرل کو حوالے کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بوسنیا کی ایک عدالت نے ترکیہ سے باضابطہ طور پر ایک سزا یافتہ جنگی مجرم کوحوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔یہ سزایافتہ جنگی مجرم سابق جنرل ثاقب مہمولژن ہیں۔ وہ اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے بعد بوسنیا سے فرار ہو گئے تھے۔

عدالتی حکام نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد بوسنیا ہرزیگووینا کی عدالت نے ترکیہ کو جنرل ثاقب کی حوالگی کی درخواست بھیجی ہے۔

70 سالہ مہمولژن بوسنیائی فوج کی تیسری کور کے سابق کمانڈر تھے۔یہ بنیادی طور پرمقامی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ انھوں نے 1990 کی دہائی میں ملک کی خونریز خانہ جنگی کے دوران میں خدمات انجام دی تھیں۔

جنگی استغاثہ کے مطابق ملک کے شمال مشرق میں واقع ووزوکا اور زویڈووچی میں فوجیوں نے 50 سے زیادہ بوسنیائی سرب جنگی قیدیوں کو ہلاک کردیا تھا۔جنرل ثاقب کو گذشتہ سال اس جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مجرم قرار دیے جانے کے باوجود،جنرل مہمولژن کو مقدمے کی سماعت کے بعد رہا کر دیا گیا تھااور وہ اپنی سزا پوری کرنے کے لیے جیل نہیں آئے۔مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ مبیّنہ طبی وجوہات کی بنا پربوسنیا سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔

ثاقب مہمولژن بوسنیا کے ان چنداعلیٰ فوجی عہدے داروں میں سے ایک ہیں جنھیں 1992-1995 کی جنگ کے دوران میں ان کے جرائم پرسزا سنائی گئی تھی۔اس لڑائی میں بوسنیائی مسلمان، کروٹ اور سرب ایک دوسرے کے مدمقابل تھے اوراس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان جرائم کا ارتکاب ان کی فوج سے منسلک "المجاہد" یونٹ نے کیا تھا، جوافریقا، مشرق اوسط اور کچھ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں غیر ملکی جنگجوؤں پرمشتمل تھا۔انھوں نے بوسنیا کی آزادی کے لیے مقامی مسلمانوں کے ساتھ مل کرکام کیا تھا اور سرب فورسز کے خلاف جنگ لڑی تھی۔

بوسنیا کے تنازع میں شامل ہونے والے زیادہ ترغیر ملکی جنگجو 1995 میں امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے کے بعد اپنے اپنے آبائی ممالک کو لوٹ گئے تھے۔اس معاہدے کے نتیجے میں بوسنیا کی خونریز جنگ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں