سویڈش عدالت نے پولیس کاقرآن جلانے پر پابندی کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سویڈن میں ایک عدالت نے منگل کے روز قرآن مجید نذرآتش کرنے کے دومظاہروں پر پابندی عاید کرنے کا پولیس کااقدام کالعدم قراردے دیا ہے جبکہ اسی طرح کے مظاہرے پر’’دہشت گردی کی کارروائی‘‘ کی منصوبہ بندی کے الزام میں پانچ مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔

جنوری میں اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانہ کے باہراسلام کی مقدس کتاب کونذرآتش کرنے کے واقعے پراسلامی دنیا میں غم وغصے کی لہر دوڑگئی تھی۔اس کے ردعمل میں کئی ہفتے تک احتجاج کیا گیا تھا،سویڈش مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا اورسویڈن کی نیٹو رکنیت کی کوشش کو روک دیا گیا تھا۔

سویڈش پولیس نے قرآن مجیدکو نذرآتش کرنے کے اس واقعہ کے بعدفروری میں ایسے ہی ہونے والے دو اورمظاہروں پرپابندی عایدکردی تھی لیکن سویڈن کی سپریم انتظامی عدالت اس اقدام کو یہ کہتے ہوئے کالعدم قراردے دیا ہےکہ سکیورٹی خدشات مظاہرے کے حق کومحدود کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

جج ایوا لوٹا ہیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس اتھارٹی کے پاس اپنے فیصلوں کےحق میں مناسب حمایت نہیں تھی۔سویڈش پولیس نے فروری میں اسٹاک ہوم میں ترکیہ اور عراق کے سفارت خانوں کے باہر قرآن کو نذرآتش کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ جنوری کے احتجاج نے سویڈن کو’’حملوں کااعلیٰ ترجیحی ہدف‘‘بنادیا ہے۔

ترکیہ نے خاص طور پر اس بات پر سخت برہمی اور ردعمل کا اظہار کیا تھاکہ پولیس نے مظاہرے کی اجازت دی تھی جبکہ اس نے سویڈن کی نیٹو میں رُکنیت کی کوشش کو روک دیا ہے اوراس کا کہنا ہے سویڈن اپنے ہاں کرد گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں ناکام رہا ہے۔ترکیہ ان جلاوطن گروپوں کو’’دہشت گرد‘‘ سمجھتا ہے۔

سویڈن کے سیاست دانوں نے قرآن کو جلانے پر تنقید کی ہے لیکن اظہار رائے کی آزادی کے حق کا دفاع کیا ہے۔

دریں اثنا سویڈن کی سکیورٹی سروس نے کہاہے کہ منگل کی صبح تین وسطی قصبوں ایسکلسٹونا، لنکوپنگ اوراسٹرانگناس میں چھاپامار کارروائیوں کے دوران میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتارکیا گیا ہے۔

سکیورٹی سروس کے انسداد دہشت گردی یونٹ کی نائب سربراہ سوزانا ٹریہورننگ نے کہا کہ ہائی پروفائل قرآن جلانے کے سلسلے میں موجودہ کیس ان متعدد میں سے ایک ہے جن پر سویڈش سکیورٹی سروس کام کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ مشتبہ افراد کا تعلق بین الاقوامی "اسلامی انتہا پسندی" سے ہے۔

تاہم سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ اسے یقین نہیں کہ حملہ ہونے والا تھا۔اس نے ایک بیان میں کہا کہ’’سکیورٹی سروس کواکثر کسی خطرے سے بچنے کے لیے جلدکارروائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہم کارروائی کرنے سے پہلے جرم کے ارتکاب تک انتظار نہیں کرسکتے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں