ایران سے معاہدے کے باوجود امریکا سعودی عرب تعلقات بہتر ہو رہے ہیں

"دونوں ملکوں کے درمیان بہت ساری خیر سگالی باقی ہے، لیکن امریکا کو اب ایک ایسے سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرنا ہو گا جو ماضی سے بالکل مختلف ہے اور یہ سمجھ میں آنے والی رکاوٹوں میں سے ایک ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 70 سال سے زیادہ قدیم تعلقات بلاشبہ اپنے مشکل ترین مراحل میں سے گزرے ہیں۔

لیکن سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے چین کی حمایت یافتہ حالیہ ڈیل کے باوجود، حکام اور بائیڈن انتظامیہ کے حالیہ بیانات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ یہ سرد لہر آہستہ آہستہ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان زیادہ مستحکم ماحول کے حق میں بدل رہی ہے۔


ایک بیان میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے العربیہ کو بتایا کہ "آگے دیکھتے ہوئے، ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا تعاون امریکی عوام کے مفادات کی خدمت کے لیے جاری رہے، اور ہم نے اس تعلقات میں بڑی سٹریٹجک اہمیت دیکھی ہے اور دیکھتے رہیں گے۔"

70 کی دہائی میں تیل پر پابندی، 2003 میں عراق پر امریکی حملہ، ایران کے بارے میں اوباما انتظامیہ کی پالیسی اور اس کے بعد 2015 کے جوہری معاہدہ سمیت سعودی-امریکی تعلقات میں دیگر کئی مشکل ادوار آئے ہیں۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں تعلقات کو فروغ ملا اور انہوں نے پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیا۔ تاہم 2019 میں سعودی آئل ریفائنریوں پر ایران کے حملوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی ردعمل کو روکنے کے بعد اعتماد کی فضا متاثر ہوئی۔

ٹرمپ کے بعد انتخابی مہم کے دوران، اُس وقت کے امیدوار جو بائیڈن نے سعودی عرب کو "تنہا" کرنے کا وعدہ کیا۔ بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد خارجہ پالیسی کے متعدد فیصلوں میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ریاض کو ہتھیاروں کی فروخت منجمد کرنا بھی شامل ہے۔

لیکن گزشتہ چھ ماہ کے واقعات خاص طور پر تشویشناک اور امریکہ سعودی تعلقات کے تسلسل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

سعودی زیرقیادت اوپیک پلس کی طرف سے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے کو بائیڈن انتظامیہ نے ریپبلکنز کے خلاف ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات کو کمزور کرنے کے لیے سیاسی حربے سے تعبیر کیا۔ سعودی عرب نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے کے فوراً بعد تیل کی قیمتوں میں استحکام کی طرف اشارہ کیا۔

واشنگٹن نے سعودی عرب پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ایک ایسے وقت میں روس کا ساتھ دے رہا ہے جب امریکہ اور یورپ یوکرین کے خلاف جنگ کے دوران ولادی میر پوتن کے خزانے کو نچوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

وائٹ ہاؤس اور دیگر امریکی حکام نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا، یہاں تک کہ اقتصادی اور مالی پابندیوں کی دھمکی دی گئی۔

لیکن کچھ ہی دیر بعد سعودی عرب کی طرف امریکی حکام کے لہجے میں تبدیلی آئی۔

اقوام متحدہ میں، سعودی عرب نے یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کے لیے رائے شماری میں کئی عرب اور خلیجی ریاستوں کی قیادت کی، اور روس پر زور دیا کہ وہ پیوکرین سے فوج کو نکالے۔ اس کے بعد سعودی عرب کی طرف سے یوکرین کو 400 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا۔ بائیڈن انتظامیہ نے فوری طور پر اپنی تنقید کو کم کیا اور عالمی سطح پر سعودی عرب کی مثبت شراکتوں کی تعریف کی۔

اس سے ایک ہفتہ قبل، سینیئر امریکی حکام نے ایران اور دیگر مشترکہ خطرات پر سکیورٹی میٹنگز میں شرکت کے لیے ریاض کا سفر کیا، ان دعوؤں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہ واشنگٹن خطے سے خود کو دور کرنا چاہتا ہے۔

اور جب سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کا حیرت انگیز اعلان کیا گیا تو وائٹ ہاؤس اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے چین کی حمایت یافتہ معاہدے کی تعریف کی۔

گزشتہ دس دنوں کے دوران، امریکی حکام نے یمن جنگ کے بارے میں بیانات جاری کیے ہیں جو سعودی عرب کے لیے مثبت نظر آتے ہیں جبکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں پر تنقید کی جاتی ہے۔

اگلے مہینے تیل کی پیداوار میں مزید کمی کے سعودی اور اوپیک پلس کے تازہ ترین فیصلے پر امریکی ردعمل بھی نسبتا خاموش تھا، بائیڈن نے محض یہ کہا کہ "یہ اتنا برا نہیں ہوگا جتنا آپ سوچ رہے ہیں۔"

امریکی اور سعودی حکام اب آگے بڑھنے کا زیادہ مثبت راستہ دیکھ رہے ہیں اور اب بھی یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ان کے دوطرفہ تعلقات مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز نے اس ہفتے سعودی عرب کا دورہ کیا تاکہ انٹیلی جنس تعاون، خاص طور پر انسداد دہشت گردی جیسے شعبوں میں امریکی عزم کو تقویت ملے۔

اس حوالے سے کولمبیا یونیورسٹی کی سنٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کی سینئر ریسرچ اسکالر کیرن ینگ نے کہا کہ سعودیوں کی قیادت میں اور امریکی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی تعمیری طور پر شمولیت کی کوششیں کی گئی ہیں۔

امریکہ اور سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ریاض میں ایک نئے فوجی ٹیسٹنگ سینٹر میں اپنی پہلی مشترکہ انسداد ڈرون مشق کا اختتام کیا۔ مزید برآں، سعودی عرب نے حال ہی میں امریکی کمپنی بوئنگ کے ساتھ 37 بلین ڈالر مالیت کے 120 سے زیادہ طیاروں کے لیے "تاریخی معاہدے" پر دستخط کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ معاہدہ 44 ریاستوں میں 10 لاکھ سے زیادہ امریکی ملازمتوں کی حمایت کر سکتا ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے ایک اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ "یوکرین ، یمن اور بوئنگ ڈیل پر مشترکہ کوششیں امریکہ کی دلچسپی کے شعبے ہیں ،عام طور پر کانگریس میں وسیع تر دو طرفہ حمایت کے ساتھ، اور جہاں ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے دور میں اس سلسلے میں مزید پیش رفت ہو گی۔"

ان جاری مذاکرات کا نتیجہ آنے والا دور میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب نے امریکی ٹیکنالوجی سے درخواست کی ہے کہ وہ ریاض کے پاس موجود یورینیم کو افزودہ کرے تاکہ ایندھن تیار اور پھر فروخت کیا جا سکے۔ دوسری صورت میں، سعودی حکام نے کہا ہے کہ وہ مدد کے لیے چین، روس یا فرانس کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب کی صاف توانائی کی منتقلی کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں پرامن جوہری توانائی کے پروگرام کو تیار کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں، لیکن سعودی عرب کے یورینیم افزودگی کے منصوبوں کے لیے امریکی منظوری کا اشارہ نہیں دیا گيا۔

امریکی عہدیدار نے سعودی عرب کی آٹھ دہائیوں تک امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر رہنے کے لیے تعریف کی اور کہا کہ یہ بہت واضح ہے کہ ریاض کے ساتھ مل کر کرنے کے لیے بہت سے اہم کام ہیں، جن میں یوکرین، یمن، ایرانی خطرات، ماحولیاتی تبدیلی، اور 5G۔ اور 6G نیٹ ورکس کا قیام شامل ہیں۔

ینگ نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "دونوں ملکوں کے درمیان بہت ساری خیر سگالی باقی ہے، لیکن امریکا کو اب ایک ایسے سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرنا ہو گا جو ماضی سے بالکل مختلف ہے، اور یہ سمجھ میں آنے والی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں