امریکاکی خفیہ معلومات کےافشاء میں کیاروس کاہاتھ کارفرماہے؟کریملن کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین سمیت متعدد ممالک کے بارے میں امریکاکی خفیہ دستاویزات کے افشاء میں کیا روس کا ہاتھ کارفرما ہے؟کریملن نے اس کی تردید کی ہے اور یہ کہا ہے کہ امریکا کاہمیشہ ہرایسی چیز کے لیے روس کو مورد الزام ٹھہرانے کا عام رجحان ہے۔

دو امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ امریکا کی قومی سلامتی کی برادری درجنوں خفیہ دستاویزات کے اجراء کے مضمرات سے نمٹ رہی ہے۔اس میں حکومت کے اندرحساس معلومات کے تبادلے اوردیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پراثرات بھی شامل ہیں۔

ان دستاویزات میں یوکرین میں جنگ کے بارے میں معلومات شامل ہیں اور اس میں دونوں فریقوں کے نقصانات اور دیگر تفصیل شامل ہے۔قومی سلامتی کے بعض ماہرین اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں شُبہ ہے کہ ان کے افشاء میں کوئی امریکی ملوّث ہو سکتا ہے، کیونکہ دستاویزات میں جن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے،اس سے تو کسی امریکی کی طرف ہی انگلی اٹھتی ہے لیکن وہ روس نواز عناصر کو مسترد نہیں کرتے۔

سی آئی اے کے ایک سابق افسر نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ماسکو نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے درمیان الجھن اور ممکنہ تقسیم پیدا کرنے کے لیے اس لیک کی منصوبہ بندی کی ہو۔

کیا روس اس کا ذمہ دارہے؟اس الزام کے بارے میں پوچھے جانے پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا’’میں اس پرکسی بھی طرح سے تبصرہ نہیں کرسکتا۔ آپ اورمیں جانتے ہیں کہ حقیقت میں ہر چیز کا الزام ہمیشہ روس پر عاید کرنے کا رجحان ہے۔ یہ ایک عام بیماری ہے‘‘۔

واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کی جاسوسی کے بارے میں پوچھے جانے پر پیسکوف نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا:’’حقیقت یہ ہے کہ امریکاایک طویل عرصے سے مختلف سربراہان مملکت بالخصوص یورپی دارالحکومتوں میں جاسوسی کر رہا ہے، جس کی وجہ سے شرمناک حالات پیدا ہورہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں