افغانستان وطالبان

’انصاف افغان حکومت کی بقاکاذریعہ ہے‘؛طالبان کے سپریم لیڈراخوندزادہ کانایاب صوتی پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے حکمران طالبان نے اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کا ایک نایاب صوتی پیغام شیئرکیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ انصاف افغان حکومت کی بقاکا ذریعہ ہے۔

مذہبی عالم ہیبت اللہ اخوندزادہ شاذ ہی عوامی سطح پر نظرآتے ہیں اور وہ جنوبی صوبہ قندھار میں طالبان کے مضبوط گڑھ سے بھی شاذ ہی باہرجاتے ہیں۔ان کےارد گردایسے مذہبی علماء ،اسکالرز اور اتحادی ہیں جو تعلیم اور خواتین کے کام کرنے کےمخالف ہیں۔ان کی صرف ایک معروف تصویر موجود ہے، جوبرسوں پرانی ہے۔

اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار پرقبضے کے بعد سے اخوندزادہ نے صرف ایک مرتبہ کابل کا سفر کیا ہے۔وہاں انھوں نے علماء کے ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا۔اس بندکمرے کی تقریب کی میڈیا کوریج میں انھیں نہیں دکھایا گیا تھا اور وہ سامعین کے سامنے پیٹھ کرکے نمودار ہوئے تھے۔

طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کو ٹویٹر ان کا ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔اس میں اخونزادہ نے کہا کہ انصاف حکومت کی بقا کا ایک ذریعہ ہے۔

اخوندزادہ کو یہ کہتے ہوئے سناجاسکتا ہے کہ ’’اگر انصاف نہیں ہوگااور ظلم، خود غرضی، قتل اور انتقام کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے بغیر قتل وغارت گری ہوگی تو یہ ملک تباہ ہو جائے گا۔ اس ظلم کوعلماء کرام کے درست فیصلے اور حکومت کی جانب سے اس پر مناسب عمل درآمد کے ذریعےروکا جاسکتا ہے‘‘۔

کسی خبررساں ایجنسی نے آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آڈیو پیغام میں آوازملّا ہیبت اللہ اخوندزادہ ہی کی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹویٹ میں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں کہ پیغام کہاں ریکارڈ کیا گیا، کب ریکارڈ کیا گیا اور پیغام جاری کرنے کی وجہ کیا تھی؟

افغان طالبان کے بارے میں کئی کتب کے مصنف اور اور تجزیہ کاراحمد رشید کا کہنا ہے کہ اس کلپ کا کوئی سیاق و سباق نہیں ہے اور اس میں طالبان کو درپیش خواتین کے حقوق اور ملک کے بڑھتے ہوئے انسانی بحران جیسے کسی بھی مسئلے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں:’’انھوں نے ایک ایسی چیزاٹھالی ہے جو طالبان کے لیےاہم ہے لیکن جو بڑے پیمانے پرآبادی کے لیے غیرمتعلق ہے۔ایسالگتاہے کہ اس کلپ کا کوئی سیاسی مقصد نہیں۔اس سے سننا بہت غیر معمولی ہے۔ لوگ آنے والے دنوں تک اس پر پریشان رہیں گے کیونکہ جب سے وہ اقتدار میں ہیں انھوں نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہے‘‘۔

جنوری میں ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹ کیا تھا کہ اخوندزادہ نے مختلف صوبوں کے علماء سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے کمانڈروں اور دیگر اعلیٰ سکیورٹی حکام کے ساتھ سپریم لیڈر کی فروری میں ملاقات کے بارے میں بھی ٹویٹ کیا تھا۔

اخوندزادہ نے گذشتہ چھے ماہ کے دوران میں داخلی پالیسی کے بارے میں بعض سخت ہدایات دی ہیں۔ قندھارسے ان کے حکم پر طالبان نے چھٹی جماعت کے بعد خواتین اور لڑکیوں کو یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں جانے سے روک دیا اور افغان خواتین کو غیرسرکاری تنظیموں(این جی اوز)اور اقوام متحدہ میں کام کرنے سے روک دیا تھا۔

یادرہے کہ انھیں 2016 میں اس وقت طالبان کا سپریم رہ نما نامزد کیا گیا تھاجب پاکستان میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں ان کے پیش رو ملّااختر محمد منصور مارےگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں