ناروے نے 15 روسی سفارت کار ملک بدر کر دیے، ماسکو کی جوابی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ناروے نے کل جمعرات کو اوسلو میں روسی سفارت خانے کے 15 ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا ہے جسے وہ مبینہ طورپر "انٹیلی جنس ایجنٹس" سمجھتا ہے، جب کہ روسی مشن نے اس فیصلے کو "انتہائی غیر دوستانہ" قرار دیتے ہوئے "جواب دینے" کی دھمکی دی ہے۔

ناروے کے وزیر خارجہ انکین ہوٹولٹ نے ایک بیان میں کہا کہ "ان 15 انٹیلی جنس ایجنٹوں کو ان کی سفارتی حیثیت سے متصادم سرگرمیوں کے لیے پرسنل نان گراٹا قرار دیا گیا ہے۔"

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ "ناروے میں روسی جاسوسی کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے حجم کو کم کرنے کے لیے یہ ایک اہم اقدام ہے"۔

ناروے کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پندرہ روسی جو سفارتی احاطہ میں ملک میں ہیں انہیں جلد ہی ناروے کی سرزمین سے نکل جانا چاہیے۔

روس اور چین کے جھنڈے
روس اور چین کے جھنڈے

الزامات کی وضاحت نہیں کی گئی

ہوٹ ویلٹ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ان کی سرگرمیوں کو "تھوڑی دیر کے لیے" ٹریک کیا گیا تھا۔ تاہم ان پر عاید جاسوسی سرگرمیوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔

دوسری جانب روسی سفارت خانے کے ترجمان تیمور چیکانوف نے ایک ای میل میں کہا کہ "ہمارا ردعمل بہت منفی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک نیا، انتہائی غیر دوستانہ فیصلہ ہے جس کے بعد جواب دیا جائے گا۔"

اوسلو نے اپنے فیصلے کو "روس سے بڑھتے ہوئے خطرہ، جاسوسی کے لحاظ سے پیدا ہونے والے نئے جیو پولیٹیکل ڈیٹا" کے ساتھ درست قرار دیا۔

دونباس
دونباس

جاسوسی کے میدان میں دو خطرات

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ناروے کی انٹیلی جنس سروسز نیٹو کے رکن ریاست کی جاسوسی کے میدان میں روس اور چین کو دو بڑے خطرات کے طور پر بیان کرتی ہے جو آرکٹک میں روس کے ساتھ 198 کلومیٹر طویل سرحد کا اشتراک کرتے ہیں۔

اپریل 2022 میں یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے چند ہفتوں بعد اوسلو نے بھی کئی دیگر یورپی دارالحکومتوں کی طرح جاسوسی کے شبہ میں تین روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا جس سے ماسکو نے ناروے کے تین سفارت کاروں کو بے دخل کر کے ردعمل کا اظہار کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات یوکرین کے تنازعے کی وجہ سے بہت خراب ہو چکے ہیں، حالانکہ انہوں نے طویل عرصے تک قریبی تعلقات قائم رکھے ہوئے تھے۔

ناروے نے روس پر لگائی گئی تقریباً تمام پابندیوں کی منظوری دے دی ہے حالانکہ اوسلو یورپی یونین کا رکن نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں