سوڈان میں سفارت کاروں پر حملوں کی عالمی سطح پر شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر سوڈان میں جاری کشیدگی کے دوران سفارت کاروں پر حملوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

سوڈان میں یورپی یونین کے دفتر برائے انسانی امداد کے ڈائریکٹر ویم فرانسن کے دارالحکومت خرطوم میں منگل کو جھڑپوں میں زخمی ہونے کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی مندوب لنڈا گرین فیلڈ نے امریکی سفارتی قافلے پر حملے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے سوڈان میں سفارت کاروں، امدادی کارکنوں اور اقوام متحدہ کے عملے کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے فریقین سے امدادی مشنز کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

گرین فیلڈ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھاکہ "ہم سوڈان میں امریکی سفارتی قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں پر ہونے والے تمام حملوں، بہ شمول خرطوم اور سوڈان کے دیگر حصوں میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر حملو کی شدید مذمت کرتے ہیں"۔

یہ بات نیویارک ٹائمز کی چار ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے کہ سوڈان میں یورپی یونین کے دفتر برائے انسانی امداد کے ڈائریکٹر ویم فرانسن کو دارالحکومت خرطوم میں گولی مار دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سوڈان میں یورپی یونین کے سفیر پر ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا اور انہیں لوٹ لیا گیا۔

ذرائع نے نشاندہی کی کہ پیر کو امریکی سفارت خانے کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا۔

اخبار نے کہا کہ فرانسین گذشتہ اتوار کی شام سے لاپتہ تھے کیونکہ خرطوم میں مسلح افواج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے اہلکار نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے مشن میں فرانسین کے ساتھیوں نے اسے تلاش کیا، وہ شدید زخمی حالت میں ملے تاہم یہ زخم جان لیوا نہیں ہوں گے۔ اخبار نے بتایا کہ یورپی اہلکار کے زخمی ہونے کے حالات فوری طور پر واضح نہیں ہوئے۔

نامکمل جنگ بندی

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب سوڈان میں طے پانے والی جنگ بندی منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے سے 24 گھنٹے کی مدت کے لیے نافذ ہوئی ہے۔ سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز [سریع الحرکت فورسز] دونوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا مگر خرطوم میں وفقے وقفے سے فائرنگ اور دھمکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ دونوں متحارب فورسز ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کر رہی ہیں۔

دونوں افواج کے درمیان خرطوم میں مسلسل چوتھے روز بھی جھڑپیں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کے مطابق شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 185 اور زخمیوں کی تعداد 1800 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ خونریز جھڑپیں گذشتہ ہفتے کے آخر میں شروع ہوئیں جب سریع الحرکت فورسز نے تقریباً 100 گاڑیوں کو شمالی ریاست میں مروی اڈے کی طرف روانہ کیا۔ ساتھ ہی خرطوم میں فوج کے مراکز پر کچھ گاڑیوں سے حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد دونوں فورسز کے درمیان ملک گیر لڑائی کا آغاز ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں