سوڈانی فوج غیرملکیوں کے انخلامیں مدد پررضامند، جنگ بندی کے باوجودجھڑپیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈانی فوج نےغیرملکیوں کے انخلا میں مدد دینے پر رضامند کا اظہار کیا ہے جبکہ خرطوم میں عیدالفطر پرتین روزہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود وقفے وقفے سے فائرنگ اور فضائی حملوں کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے۔

سوڈانی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان کا حوالے سے یہ بیان سامنے آیا ہے۔اس سے پہلے ان کے حریف سریع الحرکت فورسز(آر ایس ایف) کے کمانڈر محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی نے غیرملکیوں کے انخلا کے لیے ہوائی اڈے کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔

خرطوم میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز سے وابستہ ایک صحافی کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آوازیں رات بھر جاری رہیں لیکن ہفتے کی صبح گذشتہ روز کے مقابلے میں کم شدت دکھائی دی۔ علاقائی نیوز چینلز کی براہ راست نشریات میں دھواں اٹھتا ہوا اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

سوڈانی فوج اورنیم فوجی دستوں پر مشتمل آر ایس ایف نے عیدالفطر کی تعطیلات کے لیے جمعہ سے تین روزہ جنگ بندی کوبرقراررکھنے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن جنگ بندی کے اس اعلان کے باوجود متحارب فورسز میں خرطوم اور ملک کے دوسرے علاقوں میں جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ان میں گذشتہ ایک ہفتے کی لڑائی کے بعد ابھی تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملاکہ کوئی بھی فریق فوری فتح حاصل کرسکتا ہے یا پیچھے ہٹنے اور بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ فوج کے پاس فضائی طاقت ہے لیکن آر ایس ایف کی بھاری نفری شہری علاقوں میں موجود ہے جس میں خرطوم کے وسطی علاقے میں اہم تنصیبات بھی شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعہ کے روز بتایا کہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 413 افراد ہلاک اور 3551 زخمی ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں بیرونی غذائی امداد پر انحصار کرنے والے ملک کے پانچ امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

تشدد کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششیں مستقل جنگ بندی پرمرکوزہیں اورامریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن نے ان سے جنگ بندی کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء امریکااوربعض دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو نکالنے کی کوششیں تیزکردی ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ امریکا،برطانیہ، فرانس اور چین آیندہ چند گھنٹوں میں خرطوم سے سفارت کاروں اور دیگر شہریوں کو نکال لیں گے۔

آرایس ایف کے سربراہ جنرل حمیدتی نے ہفتے کی صبح فیس بک پر کہا کہ انھیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوئی ہے جس میں انھوں نےمکمل جنگ بندی پر عمل کرنے اور انسانی اور طبی کارکنوں کو تحفظ مہیا کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ وہ انخلاکی اجازت دینے کے لیے تمام ہوائی اڈوں کو جزوی طور پر کھولنے کوتیار ہے۔ تاہم خرطوم کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرلڑائی کی اطلاعات ملی ہیں اوردیگر ہوائی اڈوں کی حیثیت یا ان پرآرایس ایف کےکنٹرول کے بارے میں کوئی واضح اطلاع نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں