سوڈان تنازع کا دوسرا ہفتہ؛پوپ فرانسیس کا فریقین سے مذاکرات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے سوڈان میں لڑائی کے دوسرے ہفتے میں داخل ہونے کے بعد متحارب فوجی دھڑوں کے درمیان مذاکرات پرزوردیا ہے اورکہا ہے کہ بدقسمتی سے سوڈان میں صورت حال اب بھی سنگین ہے۔

پوپ فرانسیس نے اتوارکو روم کے سینٹ پیٹرز اسکوائرمیں روایتی دعائیہ تقریب میں کہا کہ’’یہی وجہ ہے کہ میں تشدد کوجلد سے جلدروکنے اور بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے اپنے مطالبے کی تجدید کررہا ہوں‘‘۔

انھوں نے مزیدکہا:’’میں سب کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنے سوڈانی بھائیوں اوربہنوں کے لیے دعا کریں‘‘۔

دریں اثناء فرانس، اٹلی،ترکی اور امریکا سوڈان سے اپنے شہریوں کو نکال رہے ہیں۔سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسزکے درمیان ہولناک لڑائی اورلڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں میں 400 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔اس میں گنجان آبادخرطوم میں ٹینکوں کے ساتھ لڑائی بھی شامل ہے۔

فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کی افواج اور ان کے سابق نائب محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کی حریف سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان لڑائی 15 اپریل کو شروع ہوئی تھی۔ان میں آر ایس ایف کے باقاعدہ فوج میں انضمام کے منصوبے پر اختلافات ہے۔یہ اقدام سوڈان میں جمہوری منتقلی کوبحال کرنے کے مقصدسے ایک معاہدے کی ایک اہم شرط تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں