آزاد کشمیر میں کئی ہفتوں کے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد دکانیں کھل گئیں

ایندھن کی قلت اور انٹرنیٹ کی بندش بحالی میں رکاوٹ: تاجران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حکومت مخالف مظاہروں کی وجہ سے ہفتوں کے خلل کے بعد منگل کے روز آزاد کشمیر میں چند دکانیں دوبارہ کھل گئیں اور پبلک ٹرانسپورٹ سروسز جزوی طور پر بحال ہوئیں تاہم رہائشیوں اور تاجروں نے کہا ہے کہ ایندھن کی قلت اور انٹرنیٹ کی بندش معمولاتِ زندگی کی بحالی میں رکاوٹ ہیں۔

معاشی اور حکومتی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی حکومت مخالف تحریک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حامیوں نے مظاہروں کو آگے بڑھایا حالانکہ گروپ پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت اس ماہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام اور رہائشیوں کے مطابق احتجاج، دھرنوں اور کاروباری ہڑتالوں نے علاقے کے بیشتر حصوں میں روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا تھا۔

مظفرآباد میں دکانیں دوبارہ کھلنے کے باوجود اے ایف پی نے شہر کے مرکزی بس ٹرمینل پر محدود سرگرمی دیکھی جہاں سے گاڑیاں اسلام آباد جاتی ہیں جبکہ کئی کاروبار بند رہے۔

پھل فروش محمد سلیمان نے اے ایف پی کو بتایا، "آج کئی دنوں کے بعد میں بالآخر اپنا خوانچہ دوبارہ لگانے میں کامیاب ہوا ہوں۔"

نیز کہا، "گذشتہ آٹھ دنوں سے میرے گھر میں آٹا، چینی اور دیگر بنیادی گھریلو اشیاء ختم ہو چکی تھیں۔ آج میں تھوک مارکیٹ سے قرض پر پھل لایا تاکہ میں دوبارہ روزی کمانا شروع کر سکوں۔"

آٹو رکشہ ڈرائیور رانا محمد الیاس نے کہا کہ احتجاج میں نرمی کے باوجود ایندھن کی کمی نے ٹرانسپورٹ سروسز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا، "اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ایندھن کی کمی ہے۔ پٹرول دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شاید ہی کوئی مسافر ہوں اور کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔"

مقامی تاجر محمد فتح یاب نے کہا کہ طویل بندش نے تاجروں کو بھاری مالی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا، "ہمارے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔ ایک بار کاروبار میں خلل آنے کے بعد بحالی میں مہینوں یا سال بھی لگ سکتے ہیں۔"

سنٹرل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین گوہر کشمیری نے کہا ہے کہ مظفرآباد کے مرکزی تجارتی علاقوں میں 200 سے 400 کے درمیان دکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں لیکن انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ایندھن کی رسد اور انٹرنیٹ سروسز بحال کریں تاکہ کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر دوبارہ شروع ہو سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں