ایران:قُم میں کارڈرائیور نے دوراہگیروں کوکچلنے کے بعدعالم دین کو چاقو گھونپ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے مقدس شہر قم میں ہفتے کے روزایک مذہبی رہنما کو چاقوگھونپ دیا گیا ہے۔یہ واقعہ تین روز قبل ایک اور مذہبی رہنما کے قتل کے بعد پیش آیا ہے۔

قُم پولیس کے سربراہ امیر مختاری نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کوبتایا کہ ایک کارڈرائیور نے دو پیدل چلنے والوں کو پہلے کچل دیا اورانھیں زخمی کرنے کے بعداپنی گاڑی سے اترکرایک عالم دین پر چاقو سے حملہ کر دیا۔

مختاری نے بتایا کہ اس ڈرائیور نے خود کو بھی چاقوکے وارکرکے زخمی کرلیا ہے۔اس ڈرائیور سمیت تینوں افرادکو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں مذہبی رہنما کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس حملے کا مقصد واضح نہیں ہے۔

اس واقعہ سے چند روزقبل ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والی ماہرین کی اسمبلی کے رکن عباس علی سلیمانی کو شمالی صوبہ مازندران کے شہر بابولسرمیں ایک بینک میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

حکام نے اس وقت بتایا تھا کہ حملہ آور کو بدھ کے روز ہلاکت خیز فائرنگ کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا اور اس سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے لیکن اس واقعہ کو’سکیورٹی یا دہشت گردانہ‘نہیں سمجھا جاتا۔

پچھتر سالہ مقتول عباس سلیمانی اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے نمائندے رہ چکے تھے۔وہ صوبہ اصفہان کے شہروں کاشان اور جنوب مشرقی صوبہ سیستان،بلوچستان کے شہر زاہدان میں ہفتہ وار نماز جمعہ کے امام بھی تھے۔

پولیس کے مطابق بدھ کے روز بھی دارالحکومت میں ایک اورعالم دین کو کارسے کچلنے کی کوشش کی گئی تھی۔سکیورٹی فورسزاس کے ڈرائیورکا تعاقب کر رہی ہیں۔تاہم اس حملے کے بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں