مصری دباؤ کی بنا پر اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان مذاکرات بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ / الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مصری دباؤ پر اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان مذاکرات بحال ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مصر اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان 48 گھنٹوں میں جنگ بندی کے لیے بات چیت جاری ہے۔
مصر کے شدید غصے کی وجہ سے 6 گھنٹے کے وقفے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے۔ العربیہ / الحدث ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیل نے قاہرہ کو جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کی بحالی سے آگاہ کر دیا ہے۔
بہ قول ذرائع تحریک اسلامی جہاد نے اصولی طور پر راکٹ فائر کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ جس کے بدلے میں اسرائیل بھی اپنے حملے روک دے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مصر قتل عام کو روکنے کی ضرورت پر اسرائیل سے اتفاق کرتا ہے۔

بے نتیجہ ثالثی
مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا تھا کہ معاملات کو پرسکون کرنے اور سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی مصر کی کوششوں کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔
جمعرات کو برلن میں اردن، فرانس اور جرمنی کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات میں سامح شکری نے "امن کی حمایت کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ مداخلت کریں اور حملے بند کرائیں" ۔ شکری نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینی ریاست کے مستقبل کو تباہ کرنے کے لیے یکطرفہ اقدامات بند کرنے چاہییں۔
تحریک اسلامی جہاد جنگ بندی کے مطالبات کے ایک حصے کے طور پر اپنے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں کا خاتمہ چاہتی ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے چینل 12 ٹی وی کو بتایا کہ ہم نے ’'ختم کرنے‘‘ کی پالیسی کو دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم جنگ بندی میں داخل ہوتے ہیں، تو اس کے لیے پیشگی شرائط نہیں ہوں گی۔
اسرائیل کو بظاہر امید ہے کہ ’’اسلامی جہاد‘‘ یکطرفہ طور پر اس وقت راکٹ فائر کرنا روک دے گی جب اس کے راکٹ ختم ہو جائیں اور اس کے رہنما بھی ختم ہوجائیں گے۔ کوہن نے اس بارے میں تفصیلات میں جانے سے انکار کر دیا کہ تحریک اسلامی جہاد کے فوجی ہتھیاروں میں کیا باقی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں