مغربی دارفور میں جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد 500 ہو گئی: سوڈان ڈاکٹرز کمیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے ڈاکٹرز پرمشتمل کمیٹی نے کہا ہے کہ مغربی دارفر ریاست کے گورنر کی طرف سے جاری کیے اعدادو شمارمیں کہا گیا ہے کہ ریاست میں ہلاکتوں کی تعداد 500 تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوڈان میں مسلح افواج اور منحرف سریع الحرکت فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد دارفورمیں اموات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

سوڈان میں ڈاکٹروں کی سینٹرل کمیٹی کے رکن ڈاکٹر علاء الدین نقد نے آج جمعرات کو عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "کمیٹی نے مغربی دارفور میں 150 مردہ افراد کی نشاندہی کی ہے لیکن محکمہ صحت کے ذرائع اور ڈاکٹروں کے ساتھ رابطے میں رکاوٹ کی وجہ سے زمینی اور مغربی دارفور میں متعدد ہسپتالوں کی تباہی پر اور مغربی دارفور میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 500 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

گذشتہ اتوار کو سوڈانی ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ مغربی دارفور کے شہر ال جینینہ میں 15 اپریل کو عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران 150 شہری ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے تھے۔

علاء الدین نقد نے سوڈان میں صحت کی سہولیات کی صورت حال کو ابتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ"60 ہسپتال مکمل یا جزوی طور پرمریضوں کو سروس سے محروم ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان میں سے 17 کو بمباری کے بعد مکمل طور پر خالی کرالیا گیا تھا، جب کہ باقی ہسپتال پانی اور بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے جزوی طور پر کام کر رہے ہیں اور ان تک طبی سامان پہنچنا بند ہو گیا ہے۔"

سنٹرل ڈاکٹرز کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ ’’لڑائی جاری رہنے اور جنگ بندی کی عدم تعمیل کی وجہ سے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اب بھی ہسپتالوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔‘‘

طبی امداد کے حوالے سے نقد نے تصدیق کی کہ "اب تک جو طبی امداد تقسیم کی گئی ہے وہ صرف بین الاقوامی ریڈ کراس کی ہے جو 30 اپریل کو پورٹ سوڈان پہنچی تھی۔"

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت، کویت اور قطر کی طرف سے بھیجی جانے والی طبی امداد ہسپتالوں میں تقسیم نہیں کی گئی، حالانکہ یہ پورٹ سوڈان میں وفاقی وزارت صحت اور عالمی ادارہ صحت کے گوداموں تک پہنچ چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں