زیلنسکی نے سعودی عرب اور جاپان کے سفر میں فرانسیسی صدارتی طیارہ کیوں استعمال کیا؟

فرانسیسی صدر سے خصوصی تعلق کی بنا پر زیلنسکی نے خود طیارے کے استعمال کی درخواست کی تھی: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا جمعہ کے روز جاپان کے شہر ہیروشیما میں منعقد ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس میں آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ تاہم اس اجلاس میں ان کی آمد کے طریقے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے گئے، بہت سے مبصرین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ زیلنسی فرانسیسی صدارتی طیارے میں سوار ہوکر جاپان کیوں پہنچے۔

فرانسیسی فضائیہ کا ایک ‘‘ائیربس اے 330’’ انہیں پولینڈ کی سرحد سے پہلے سعودی عرب لے گیا جہاں انہوں نے جمعہ کو عرب سربراہی اجلاس سے خطاب کیا۔ اسی طیارے پر وہاں سے وہ جاپان اور ہیرو شیما پہنچ گئے۔

تاہم اس سوال کا جواب اتنا مشکل نہیں۔ فرانسسی صدارتی محل کے ذرائع نے اس کاجواب دیا ہے کہ زیلنسکی نے ہی اس کی درخواست کی تھی۔ اور پیرس نے ان کی درخواست کو قبول کر لی کیونکہ فرانسیسی صدر میکرون خود کو زیلنسکی کے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ درحقیقت میکرون ہیروشیما میں موجود تمام سربراہان مملکت سے زیادہ زیلنسکی کے قریب ہیں۔

میکرون نے اپنے انتخاب سے پہلے ہی اپنے ہاں زیلنسکی کا استقبال کیا تھا۔ لہذا ان دونوں افراد کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہے۔

سربراہی اجلاس کے اختتام پر بھی یوکرین کے صدر اسی سرکاری فرانسیسی طیارے میں سوار ہوں گے۔ واضح رہے کہ کل ہیروشیما پہنچنے کے بعد سے زیلنسکی نے کئی دو طرفہ ملاقاتیں کی ہیں۔

انہوں نے اپنے ملک کو F-16 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے کے بعد اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ امن قریب تر ہو جائے گا۔ جی سیون ممالک میں امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا شامل ہیں۔ ان ساتوں ملکوں کے رہنما روس کے یوکرین پر حملے اور چین کے ساتھ تناؤ کے معاملات پر بحث کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں