طالبان قندھار میں خواتین کو امدادی کام کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں: این آر سی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ افغانستان میں امداد فراہم کرنے کے لیے خواتین کے لیے مستثنیات مقرر کرنے کی کوشش کر رہا ہے

افغانستان میں ایک بین الاقوامی امدادی ایجنسی کو امید ہے کہ وہ اپنی خواتین افغان عملہ کو جنوبی صوبے قندھار میں کام

پر واپس آنے کی اجازت دینے کے لیے چند دنوں کے اندر ایک عارضی انتظام حاصل کر لے گی۔

ناروے کی پناہ گزینوں کی کونسل کے سیکرٹری جنرل جان ایگلینڈ نے یہ بات رائٹرز کو بدھ کو قندھار سے کابل جانے کے بعد بتائی۔ قندھار میں انہوں نے "طالبان" کے سینیئر رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

ایگلینڈ 2003 اور 2006 کے درمیان اقوام متحدہ کے امدادی عہدیدار کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم وہ عارضی مقامی انتظام حاصل کر سکتے ہیں جس کا ہم سے قندھار میں وعدہ کیا گیا تھا تو یہ وہ چیز ہے جسے ہم ملک کے باقی حصوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔

طالبان نے اگست 2021 میں 20 سالہ جنگ کے بعد امریکی قیادت میں اتحادی ملکوں کی افواج کے انخلا کے ساتھ اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اور گزشتہ ماہ طالبان نے اقوام متحدہ میں کام کرنے والی افغان خواتین پر پابندی عائد کرنا شروع کر دی تھی اس سے قبل دسمبر میں خواتین کے امدادی اداروں کے لیے کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ گزشتہ دسمبر میں اقوام متحدہ اور امدادی اہلکاروں نے کہا کہ یہ احکامات قندھار میں طالبان کمانڈروں کی طرف سے آئے تھے۔

سخت طریقہ کار

اقوام متحدہ اور امدادی گروپ خواتین کو امداد فراہم کرنے کے لیے بعض چیزوں میں استنثنی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں۔ طالبان انتظامیہ جنوری سے ایک تحریری رہنما خطوط تیار کر رہی ہے تاکہ امدادی گروپوں کو خواتین کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔

وزارت اقتصادیات کے ترجمان عبدالرحمٰن حبیب نے کہا ہے کہ جیسے ہی حکام کی جانب سے نئی ہدایات جاری کی جائیں گی ہم آپ کو مطلع کر دیں گے۔ انہوں نے بدھ کے روز انسانی امداد کے اداروں میں کام کرنے والی خواتین پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

ایگلینڈ نے کہا کہ جب ہم نے شکایت کی کہ گائیڈ لائنز جاری کرنے میں بہت زیادہ وقت لگ رہا ہے تو قندھار میں حکام نے تجویز کیا کہ چند دنوں کے اندر ایک عارضی انتظام پر اتفاق کیا جائے تاکہ افغان خواتین کو دفتروں اور کھیتوں میں کام پر واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

ایجلینڈ نے مزید کہا کہ جب یہ کام سپریم لیڈر کے علاقے میں ہوتا ہے تو اسے دوسرے مقامات پر بھی عارضی انتظامات کی بنیاد بھی ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے ہم ہی وہ لوگ ہوں گے جو دوسری تنظیموں کے لیے بھی دروازے کھولیں گے اور یہی وہ چیز ہے جس کو ہم تلاش کر رہے ہیں۔

طالبان حکام نے کہا ہے کہ خواتین امدادی کارکنوں کے بارے میں فیصلے کرنا اندرونی مسئلہ ہے۔

طالبان کے مطابق وہ اسلامی قانون کی اپنی تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں تاہم وہ عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں ۔ اسی طرح لڑکیوں کو یونیورسٹیوں اور سیکنڈری سکولوں میں جانے سے بھی روک رہے ہیں۔

یو ایس ایڈ کی ایڈمنسٹریٹر سمانتھا پاور نے اس ماہ خبردار کیا کہ افغان عوام کے لیے ایک انتہائی مشکل سال کا انتظار ہے کیونکہ عطیہ دہندگان کو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف طالبان کی مہم کا سامنا ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں جاری بحرانوں کی روشنی میں خواتین کی تنظیمیں فنڈنگ کی کمی کا بھی شکار ہیں۔ ایجلینڈ نے مزید کہا کہ این آر سی کو 2022 کے مقابلے اس سال 40 فیصد کم فنڈنگ ملی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے 40 ملین میں سے تقریباً تین چوتھائی افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ فنڈنگ ختم ہو رہی ہے۔ 2023 کے لیے 4.6 بلین ڈالر کی اپیل میں سے صرف 8 فیصد فنڈز ہی فراہم کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں