سعودی پی آئی ایف کی ذیلی کمپنی دنیا میں رضاکارانہ کاربن کا بڑاکریڈٹ نیلام کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کے تعاون سے رضاکارانہ کاربن کریڈٹ کی دنیا کی سب سے بڑی فروخت 14 جون کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں منعقد ہوگی۔

اس تقریب میں سعودی عرب سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی 15 سے زیادہ کمپنیوں کو 20 لاکھ ٹن سے زیادہ کاربن کریڈٹ نیلام کیے جائیں گے۔خریدار اپنے کاربن کے اخراج کے اثرات کی تلافی کے لیے اس کریڈٹ کا استعمال کرسکتے ہیں۔

اس تقریب کا اہتمام ریجنل والنٹیری (علاقائی رضاکار) کاربن مارکیٹ کمپنی (آر وی سی ایم سی) نے کیا ہے، جو پی آئی ایف اور سعودی تداول گروپ کی قائم کردہ تنظیم ہے۔

آر وی سی ایم سی نے ایک بیان میں کہا کہ نیروبی کو نیلامی کے مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کاری لانے میں رضاکارانہ کاربن مارکیٹوں کے کردار کی وضاحت میں مدد مل سکے۔

یہ اس کمپنی کے ذریعے کاربن کریڈٹ کی دوسری فروخت ہوگی۔ اکتوبر 2022 میں ، آر وی سی ایم سی نے الریاض میں مستقبل سرمایہ کاری اقدام (ایف آئی آئی) کے چھٹے ایڈیشن میں اپنی پہلی نیلامی کی میزبانی کی تھی۔

اس وقت تک یہ کاربن کریڈٹ فروخت کی سب سے بڑی نیلامی تھی۔اس میں 14 لاکھ ٹن کاربن کریڈٹ کامیابی سے نیلام کیے گئے تھے اور یہ ڈھائی لاکھ خاندانی کاروں کے سالانہ اخراج کے ازالے کے لیے کافی تھے۔

کاربن کریڈٹ ان منصوبوں کے ذریعے بنائے جاتے ہیں جو یا تو اخراج کی تخلیق سے بچتے ہیں ، مثال کے طور پر قابل تجدید یا توانائی کی بچت کرنے والی ٹکنالوجیوں کے استعمال کے ذریعے بنائے جاتے ہیں، یا فضا سے اخراج کو پکڑ کر اور ذخیرہ کرکے بنائے جاتے ہیں۔اسے کاربن ہٹانے کے نام سے جانا جاتا ہے۔

نیروبی میں نیلامی سے متعلق منصوبے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بچنے اور اسے ہٹانے کا مرکب ہیں۔ان میں زیادہ تر افریقا ہی میں پیدا ہوتے ہیں۔

اس میں کینیا اور روانڈا میں لوگوں میں بہتر صاف کھانا پکانے کے چولھوں کی تقسیم اور مصر اور جنوبی افریقا میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

کمپنی کی چیئرپرسن رانیا نشار نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اس نیلامی کے ساتھ ، تنظیم ایک گہرائی اور پیمانے تک پہنچ جائے گی جہاں یہ معنی خیز فرق پیدا کرسکتی ہے اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں حصہ ڈال سکتی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں