اکیس سالہ مہاجر شامی لڑکی مایا غزال برطانیہ میں پائلٹ کیسے بنی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ان دنوں برطانیہ میں ایک اکیس سالہ شامی مہاجر لڑکی مایا غزال کے چرچے ہیں جس نے اپنی محنت سے پائلٹ کا لائسنس حاصل کر کے اپنی صلاحیت کا لواہا منوایا ہے۔

مایا حال ہی میں لندن میں ایک کانفرنس میں سامنے آئیں جس کے بعد معلوم ہوا کہ وہ کم عمر شامی پناہ گزین خاتون ہیں جو ہوابازی کا لائسنس حاصل کرکے پائلٹ بنی ہیں۔ ہوا بازی کے میدان میں مایا پہلی شامی پناہ گزین ہیں جو پائلٹ بنی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے برطانوی میڈیا کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹس سے جمع کی گئی تفصیلات میں بتایا ہے کہ مایا غزال نامی اس لڑکی کی عمر صرف 21 سال ہے اور اس کے پاس طیارہ اڑانے کا لائسنس ہے، یعنی وہ ایک ’کیپٹن پائلٹ‘ ہے۔ پناہ گزین ہونے کے باوجود اس نے ہوا بازی کے میدان میں اپنی صلاحیت منوا کو اس مشکل چیلنج کو مکمل کرکے شامی قوم کا نام روشن کیا ہے۔

ہوا بازی کی خبریں شائع کرنے والی "ٹائمز ایرو اسپیس" ویب سائٹ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزال کو گذشتہ سال اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی جانب سے خیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

مایا غزال
مایا غزال

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے لندن میں ہوا بازی کی صنعت سے متعلق ایک خصوصی کانفرنس کے دوران غزال "سامعین کے لیے ایک الہام" تھی۔

یورپی کمرشل ایوی ایشن ایسوسی ایشن (ای بی اے اے) کے سیکرٹری جنرل اطہر حسین خان نے غزال کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ "اس کی توجہ ہوا بازی پر تھی کہ ہوا بازی کیا ہے۔ اب وہ خود اس کو سمجھ چکی ہے۔ اس کا معاملہ اس کی استقامت کے بارے میں ہے۔

غزال نے بتایا کہ اس کے والد کس طرح جنگ زدہ شام چھوڑ کر برطانیہ آنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ وہ 'فیملی ری یونیفیکیشن' ویزا پر اس کے ساتھ شامل ہو سکیں اور پھر برطانیہ میں پناہ گزین بن گئیں‘‘۔

غزال نے کہا کہ "میں نے سوچا تھا کہ زندگی آسان ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا، کیونکہ مجھے تین اسکولوں نے نکال دیا گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرے پاس قابلیت نہیں ہے اور میں اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتی"۔

غزل نوٹ کرتی ہے کہ اس نے ثابت قدمی سے خود کو انگریزی زبان سکھائی، اور بعد میں اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب رہی۔

غزال کہتی ہیں کہ میں نے ثابت قدمی سے خود کو انگریزی زبان سکھائی اور بعد میں اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب رہی۔

ٹائمز ایرو اسپیس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مایا غزال بالآخر میڈیکل یا انجینیرنگ میں جانا چاہتی تھیں مگر لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر طیاروں کی آمد ورفت دیکھ کر مسحور ہوگئیں۔ انہوں نے اپنی والدہ کو بتایا کہ طب کے بجائے پائلٹ بننا چاہتی ہیں۔

غزال نے اسی شخص سے ہوا بازی کا لائسنس حاصل کیا جس نے پہلے اسے لائسنس دینے سے انکار کردیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب میں کمرشل لائسنس حاصل کرنا اور مکمل طور پر اور سرکاری طور پر بطور پائلٹ کام کرنا چاہتی ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں