صدر جوبائیڈن نے امریکی قرضوں کی حد ختم کرنے کے قانون پر دست خط کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک کے قرضوں کی حد ختم کرنے سے متعلق منظورشدہ بل پر دست خط کردیے ہیں اور اب یہ قانون بن گیا ہے۔اس سے وفاقی حکومت کا قرضوں کی ادائی میں غیر معمولی دیوالا نکلنے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق صدربائیڈن نے اس قانون سازی میں شراکت داری پر کانگریس کے رہ نماؤں کا شکریہ ادا کیا ہے۔محکمہ خزانہ نے خبردار کیا تھا کہ پیر کے روز اس کے تمام بلوں کی ادائی کے لیے نقد رقم کی کمی شروع ہو جائے گی، جس سے امریکا اور عالمی معیشتوں کو دھچکا لگے گا۔

ری پبلکنز نے ملک کی قرض لینے کی حد بڑھانے سے انکار کر دیا تھا جب تک کہ ڈیموکریٹس اخراجات میں کمی پر رضامند نہیں ہوجاتے۔اس کے بعد تعطل پیدا ہوگیا تھا اور اس کو دور کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر کیون میکارتھی کے درمیان کئی ہفتے تک مذاکرات جاری رہے تھے۔

بدھ کو ایوان نمائندگان اور جمعرات کو سینیٹ میں میں منظورکردہ حتمی معاہدے کے تحت آئندہ صدارتی انتخابات کے بعد قرضوں کی حد 2025 تک معطل کر دی گئی ہے اور حکومتی اخراجات کو محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا قانون،قانون سازوں کو اگلے دو سال کے لیے بجٹ اہداف دیتا ہے تاکہ سیاسی موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ مالی استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

امریکا کے قرضوں کی حد 314 کھرب ڈالر تک بڑھادی گئی ہے اور اس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ حکومت پہلے سے لیے گئے قرضوں کی ادائی کے لیے مزید قرض لے سکے۔

صدر جو بائیڈن نے اس معاہدے میں 'سمجھوتے اور اتفاق رائے' پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہرکسی کو وہ سب کچھ نہیں ملا جو وہ چاہتے تھے لیکن امریکی عوام کو وہ مل گیا جس کی انھیں ضرورت تھی۔ ہم نے معاشی بحران اور معاشی تباہی کو ٹال دیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ہم اخراجات میں کمی کر رہے ہیں اور ایک ہی وقت میں خسارے کو کم کر رہے ہیں۔ہم سماجی تحفظ سے لے کر طبی سہولت تک، کم آمدن لوگوں کے لیے تحفظِ صحت کے پروگرام سے لے کر سابق فوجیوں،بنیادی ڈھانچے اور صاف توانائی میں اپنی تبدیلی لانے والی سرمایہ کاری تک اہم ترجیحات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر 99 صفحات پر محیط اس بل میں اگلے دو سال کے لیے حکومت کے اخراجات کو محدود کیا گیا ہے اور کچھ پالیسیوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ان میں غذائی امداد حاصل کرنے والے پرانے امریکیوں کے لیے کام کی نئی شرائط اور ایپلاچیئن قدرتی گیس پائپ لائن کی منظوری کا اشارہ شامل ہے جس کی بہت سے ڈیموکریٹس مخالفت کرتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کی منظوری کو آسان بنانے میں مدد کے لیے کچھ ماحولیاتی قوانین میں ترمیم کی گئی تھی۔اس اقدام کا کانگریس میں اعتدال پسندوں کی طرف سے طویل عرصے سے مطالبہ کیا جارہا تھا۔

کانگریس کے بجٹ آفس کا اندازہ ہے کہ وہ دراصل سابق فوجیوں، بے گھر افراد اور فوسٹر کیئر چھوڑنے والے نوجوانوں کے لیے کام کی ضروریات کو ختم کرنے کے ساتھ وفاقی خوراک کی امداد کے لیے مجموعی اہلیت میں اضافہ کرسکتا ہے۔

یہ قانون دفاع اور سابق فوجیوں کے لیے فنڈز میں بھی اضافہ کرتا ہے، انٹرنل ریونیو سروس(آئی آر ایس) کے لیے کچھ نئی رقم میں کٹوتی کرتا ہے اور بائیڈن کے اس مطالبے کو مسترد کرتا ہے کہ وہ ملک کے خسارے کو پورا کرنے میں مدد کے لیے کارپوریشنوں اور امیروں پر ٹرمپ دور کی ٹیکس چھوٹ کو واپس لیں۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ آئی آر ایس کا زیادہ آمدن والے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکس قوانین کے نفاذ کو تیز کرنے کا منصوبہ جاری رہے گا۔

اس معاہدے کے تحت اگر کانگریس اپنے سالانہ اخراجات کے بلوں کی منظوری دینے میں ناکام رہتی ہے تو اخراجات کے پروگراموں میں مجموعی طور پر مجموعی طور پر ایک فیصد کٹوتی کی جائے گی، یہ اقدام دونوں جماعتوں کے قانون سازوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ وہ ستمبر میں مالی سال کے اختتام سے قبل اتفاق رائے پر پہنچیں۔

دونوں ایوانوں میں ری پبلکنز کے مقابلے میں زیادہ ڈیموکریٹس نے اس قانون سازی کی حمایت کی ہے، لیکن دونوں جماعتیں اس کی منظوری کے لیے اہم تھیں۔ سینیٹ میں اس کے حق میں 63 ووٹ پڑے۔ان میں 46 ڈیموکریٹس اور آزاد ارکان کے علاوہ 17 ریپبلکنز کے ووٹ تھے جبکہ 31 ری پبلکنز، 4 ڈیموکریٹس اور ایک آزاد رکن نے اس کی مخالفت کی تھی۔ایوان نمایندگان میں 117 کے مقابلے میں 314 ارکان نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں