افغان صوبہ بدخشاں کے گورنر کے قافلے پر کار بم حملہ، نائب گورنر سمیت دو افراد قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں کے نائب گورنر ملا نثار احمد احمدی اور ان کے ڈرائیور کی کار بم دھماکے میں جان لے لی گئی جب کہ چھ افراد زخمی ہوگئے۔

ایک طالبان اہلکار نے بتایا کہ ایک خودکش بمبار نے گورنر کے قافلے کو اس وقت دھماکے سے نشانہ بنایا جب وہ سڑک سے جا رہے تھے۔

شمالی افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے گورنر مولوی نثار احمد
شمالی افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے گورنر مولوی نثار احمد

بدخشاں صوبے میں طالبان کے میڈیا آفس کے سربراہ معز الدین احمدی نے کہا کہ "خودکش حملے میں نثار احمد احمدی اور ان کا کار ڈرائیور کی موت واقع ہوگئی جبکہ چھ شہری زخمی ہیں"۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ کئی ہفتوں بعد افغانستان میں اس نوعیت کا یہ بڑا حملہ ہے۔

طالبان انتظامیہ "داعش" تنظیم کے ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے۔ داعش دارالحکومت کابل سمیت شہری مراکز میں کئی بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔

دھماکے کی جگہ
دھماکے کی جگہ

یاد رہے کہ ملا نثار احمد احمدی کو اس سے قبل بھی نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ناکام قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ مسلح عناصر نے گذشتہ سال جون میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ داعش خراسان نے گذشتہ سال دسمبر میں صوبہ بدخشاں کے پولیس چیف کو ایک خودکش بم حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

دھماکا بدخشاں میں عوامی عدالت کے گیٹ کے سامنے صوبائی گورنر کی رہائش گاہ کے قریب ہوا۔ مقامی ذرائع نے صوبائی گورنر کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

طالبان کی جانب سے ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدخشاں صوبے کے گورنر پر داعش خراسان نے خودکش حملہ کیا ہے۔

تحریک طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آج کے حملے میں داعش خراسان ملوث ہے تو یہ تین ماہ بعد افغانستان میں داعش کا پہلا حملہ ہوگا۔

گذشتہ دو کارروائیوں میں صوبہ بلخ کے گورنر داؤد مزمل کو نشانہ بنایا گیا اور دو دن بعد بلخ میں ایران سے تعلق رکھنے والے ثقافتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں