روس کو ڈرون مہیّا کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے؛ فرانس کا ایران کو انتباہ

دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان ٹیلی فون پر 90 منٹ تک بات چیت،دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے روڈ میپ پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکرون نے ایرانی ہم منصب ابراہیم رئیسی کو خبردار کیا ہے کہ روس کو ڈرون مہیّا کرنے کے مضمرات ہوں گے۔

فرانسیسی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ماکرون نے ہفتے کے روز صدر ابراہیم رئیسی سے ٹیلی فون پرگفتگو میں ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی حمایت فوری طور پر بند کردے۔انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام کی رفتار کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی، امریکا اور یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کو ایران ساختہ ڈرونز کی فروخت اور ترسیل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2015 کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔اس کے تحت ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی منظوری دی گئی تھی اور اس پر اسلحہ کی فروخت پرپابندی عاید کی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ روس ایران کے ساتھ اپنے دفاعی تعاون کو مضبوط بنا رہا ہے اور اسے سیکڑوں ڈرون مہیا کیے ہیں جو وہ یوکرین پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے۔

دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال

ایرانی اور ان کے فرانسیسی ہم منصب ماکرون نے ٹیلی فون پربات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے ابراہیم رئیسی کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف محمد جمشیدی کے حوالے سے انگریزی میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ دونوں فریقوں نے تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں پر گفتگو کی ہے اور خاص طور پر جاری مذاکرات اور علاقائی ترقی کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا:’’دونوں صدور نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے‘‘۔ان کے درمیان ٹیلی فون پر یہ بات چیت 90 منٹ تک جاری رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size