تین صدیاں مکمل، دنیا کے قدیم ترین ریسٹورنٹ کی جشن منانے کی تیاری

ہسپانوی پینٹر " فرانسسکو ڈی گویا " نے اس ریسٹورنٹ میں بطور ویٹر کام کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گنیز بک آف ریکارڈز میں دنیا کا قدیم ترین ریسٹورنٹ دیکھیں تو یہ سپین کا ریسٹورنٹ ’’ سبرینو ڈی بوٹین‘‘ (Sobrino de Botín ) ہے۔

اس ریسٹورینٹ نے اپنے افتتاح کے بعد تین صدیاں مکمل ہونے کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں۔ اس کا افتتاح اٹھاویں صدی میں شاہراہ ’’ کیلے کوچی لیوروز ‘‘ ( Calle Cuchilleros ) میں اٹھارویں صدی میں ہوا تھا۔ اس کی 300 ویں سالگرہ 18 ماہ بعد منائی جائے گی۔ یہ ریسٹورنٹ میڈرڈ کے مصروف پلازہ میئر سے چند منٹوں کے فاصلے پر موجود ہے۔

میونسپل ریکارڈ میں جس ریستورنٹ کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ 1590 میں تعمیر ہونے والی ایک عمارت میں اب بھی کام کر رہا ہے۔ اس عمارت کی چار منزلیں اب بھی ویسے ہی موجود ہیں۔ یہ لکڑی کے برتن میں بھیڑ کے گوشت کو بنانے میں مہارت رکھتا ہے۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق یہ وہ ریسٹورنٹ ہے جس میں مشہور شخصیات میں سے ایک نے 1880 میں گاہکوں کی خدمت کرنے والے ویٹر کے طور پر کام کیا تھا۔ "رائل اکیڈمی آف فائن آرٹس میں داخلے کے انتظار میں" برتن دھونے کا کام کیا تھا۔ یہ آنجہانی ہسپانوی مصور اور نقاش فرانسسکو ڈی گویا تھے۔ جو 1828 میں 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔

فرانسیسی شیف جین پوٹین اور ان کی اہلیہ نے یہ تاریخی قدیم ترین ریسٹورنٹ 1725 میں Casa Botín یا "Putin's House" کے نام سے شروع کیا تھا۔ یہ نام بعد میں بدل کر Sobrino de Botín ہو گیا۔ اس نام کا معنی ’’ پوٹین کا بھتیجا‘‘ ہے۔ یہ ریسٹورنٹ میں وراثت میں مالک کے بھتیجے کو مل گیا تھا۔ ایک مالک سے دوسرے مالک کی جانب منتقل ہونے کے دوران بھی اس ریسٹورنٹ نے اپنی کلاسک ڈشز کو محفوظ رکھا ہے۔ اس کی مشہور ڈشوں میں ایک ڈش چکن کے شوربے میں ابلے ہوئے انڈے ہیں۔ اس ڈش میں مشروم اور لہسن بھی شامل کیا جاتا ہے۔

معروف امریکی ناول نگار ارنسٹ ہیمنگوے جس نے 1961 میں کیوبا میں خودکشی کر لی تھی، بھی اس ریسٹورنٹ کا عادی تھا۔ ہیمنگوے نے وقتاً فوقتاً سپین کے دوروں کے دوران اس ریسٹورنٹ کا کثرت سے ذکر کیا ہے۔ اس حد تک کہ اس نے اپنے ناول ’’ دا سن‘‘ ( The Sun ) میں بھی اس ریسٹورنٹ کا ذکر کیا ہے۔ معروف عربی فلم ’’ ثم تشرق الشمس‘‘ جس کا انگلش میں معنی ’’ Then the Sun Rises ‘‘ ہے میں بھی اس ریسٹورنٹ کو دکھایا گیا ہے۔ مصری ہدایت کار احمد اباظہ نے یہ فلم 1971 میں بنائی تھی۔

اس ریسٹورنٹ کی سب سے زیادہ مشہور بات یہ ہے کہ یہ میگزین ’’ فوربز‘‘ کے مطابق دنیا کے 10 بہترین کلاسک ریسٹورنٹس میں سب سے نمایاں ریسٹورنٹ ہے۔ ریسٹورنٹ میں ایک تندور ہے جو تین صدیوں سے کبھی نہیں بجھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں