ایران جوہری معاہدہ

کیا امریکا اور ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے مفاہمت کی جانب بڑھ رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا اور ایران قیدیوں کی رہائی کے لیے مفاہمت کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ سفارت کاری کے لیے جگہ پیدا کر رہے ہیں جس کا مقصد جوہری حدود کی حوصلہ افزائی کرنا اور تیل کی ترسیل پر قبضے کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

عُمان میں اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے موقع پربالواسطہ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ایران میں امریکی قیدیوں کی رہائی کا ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا جبکہ امریکا ایران پرعاید کردہ پابندیوں کی وجہ سے منجمد کی گئی رقوم کو جاری کرے گا۔

ایرانی مؤقف سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ سفارت کار ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ رضاکارانہ طور پر یورینیم کی افزودگی کی سطح کو محدود کرے اور بین الاقوامی مبصرین کے ساتھ اپنے تعاون کو وسعت دے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سابق عہدہ دار مارک فٹزپیٹرک نے ، جو اس ہفتے ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں تعینات سفارت کاروں سے ملاقات کے لیے آئے تھے، کہا کہ’’کچھ سفارت کاری چل رہی ہے۔ کم از کم جنگ بندی تو ہوگی، اس میں مزید اضافہ نہیں ہوگا‘‘۔

یہ دونوں عالمی حریفوں کے درمیان گذشتہ کئی ماہ میں ہونے سفارت کاری کے بہترین اشارے ہیں اور یہ پیش رفت بین الاقوامی آزمائش میں کمی اور ہتھیاروں کے درجے سے کم یورینیم کے ذرّات کی نشان دہی کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ہوئی ہے۔

اس منصوبے کا پہلا مرحلہ پہلے ہی آزمائشی دور میں ہے اور امریکا ان پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات کر رہا ہے جن کے تحت عراق کو قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے تہران کو واجب الادا 2.7 ارب ڈالر ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اسی طرح کی چھوٹ جنوبی کوریا کے لیے بھی متوقع ہے، جس کے ذمے ایران سے تیل کی خریداری پر سات ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ اس کے بدلے میں کم سے کم تین امریکی قیدیوں کو ایران میں رہا کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں کی جائے گی۔ ایران کے اعلیٰ سفارت کار مارچ سے یہ تجویز دے رہے ہیں کہ دونوں ممالک قیدیوں کے تبادلے کے قریب ہیں۔

بدھ کے روز ایران سے سفارت کاری کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایران میں زیر حراست امریکیوں کی حیثیت پر بات کرنے سے انکار کر دیا اور اس بات کی تردید کی کہ کسی جوہری معاہدے پر کام ہو رہا ہے۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات جوہری تناؤ پر مرکوز نہیں ہیں بلکہ مزید سفارت کاری میں ایک ایسے سمجھوتے تک پہنچنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی جو دست خط شدہ معاہدے سے کم درجے کا ہے۔

امریکا یہ وعدہ لینا چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کی 60 فی صد سطح سے تجاوز نہیں کرے گا اور ویانا میں قائم آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے ساتھ مل کر دو غیرعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے دہائیوں پرانے یورینیم کے ذرّات کی اصلیت کو واضح کرنے کے لیے کام کرے گا۔ اس کے بدلے میں ایران کو توقع ہے کہ امریکا ٹینکروں کو روکنے اور سمندر میں تیل بردار جہازوں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ بند کر دے گا۔

مزید پیش رفت

دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت کی ایک اضافی علامت کے طور پر عہدے داروں نے گزشتہ ماہ کے دوران آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان تجدید شدہ تعاون پر روشنی ڈالی۔ ایجنسی کے عہدے داروں کو ایران میں ایندھن فیکٹریوں میں حساس، ہائی ٹیک مانیٹرنگ آلات نصب کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ آلات ایران کی اعلان کردہ حدود سے ماورا افزودگی انوینٹری کا پتا لگا سکتے ہیں۔

ایک اور سینیر سفارت کار کے مطابق، ایران نے رضاکارانہ طور پر مزید کشیدگی پیدا کرنے سے بچنے پر اتفاق کیا جیسا کہ فروری میں دیکھا گیا تھا، جب جوہری ہتھیاروں کے گریڈ سے نیچے یورینیم کے ذرّات کا سراغ لگایا گیا تھا۔ آئی اے ای اے نے گذشتہ ماہ خبر دی تھی کہ ایران نے اس کے معائنہ کاروں کے کچھ سوالات کے جوابات دے دیے ہیں اور باقی کو حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے رواں ہفتے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک مغرب کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت کریں گے جب تک ملک کی جوہری صلاحیت کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا۔

خامنہ ای نے گذشتہ اتوار کو تہران میں ایک تقریر میں کہا:’’آپ کچھ معاہدوں تک پہنچنا چاہتے ہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کو چھوا یا تباہ نہیں کیا جانا چاہیے‘‘۔

حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں تنصیبات کی گنجائش پرپابندی عاید کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں