سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان 72 گھنٹے کی جنگ بندی کا معاہدہ

اتوار کی صبح 6 بجے سے معاہدہ شروع، اب تک 3 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور 6 ہزار زخمی ہو چکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک مشترکہ سعودی- امریکی بیان میں ہفتہ کی شام اعلان کیا گیا کہ سوڈان میں تنازع کے دونوں فریقوں نے مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح 6 بجے سے شروع ہوکر 72 گھنٹے کی نئی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ جنگ بندی کی مدت کے دوران وہ نقل و حرکت اور حملوں، جنگی طیاروں یا ڈرونز کے استعمال، توپ خانے سے بمباری سے گریز کریں گے۔ اپنی پوزیشنز کو مضبوط کرنے اور دوبارہ فوجیوں کی فراہمی سے بھی گریز کریں گے۔ اس عرصہ میں پورے سوڈان میں نقل و حرکت کی آزادی اور انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دی جاتی رہے گی۔

سوڈانی وزیر صحت ہیثم ابراہیم نے ہفتہ کو الحادث ٹی وی کو بتایا کہ سوڈان میں اپریل کے وسط میں شروع ہونے والے تنازعے کے بعد سے اب تک 3 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور 6 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ خرطوم کے 130 ہسپتالوں میں سے نصف اب بھی کام کر رہے ہیں اور مغربی دارفور کے تمام سرکاری ہسپتالوں کی سروس بند ہے۔

واضح رہے خرطوم میں ہفتہ کے روز بھی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جھڑپیں ہوئی اور اس دوران مختلف قسم کا اسلحہ استعمال کیا گیا۔ دارفور کے علاقے میں بھی پر تشدد کارروائیاں دیکھی گئیں۔

سوڈانی صحت حکام نے بتایا کہ ہفتہ کے روز خرطوم کے جنوب میں ایک فضائی حملے میں 5 بچوں سمیت 17 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس بمباری میں 25 مکانات تباہ ہوگئے۔

واضح رہے سوڈان میں لڑائی 15 اپریل کو شروع ہوئی تھی۔ عبدالفتاح البرہان کی زیر قیادت فوج اور محمد حمدان دقلو کی زیر قیادت ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان متعدد لڑائیاں ہوئی ہیں۔ اس دوران عارضی جنگ بندی کے معاہدے بھی ہوتے رہے اور ناکام بھی ہوتے رہے ہیں۔

سوڈان جو پہلے ہی غریب ترین ملکوں میں ایک تھا میں اس لڑائی کے بعد حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں۔ سوڈان کی آبادی کا اندازہ 45 ملین لگایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں