افغانستان وطالبان

افغان طالبان نے برسر اقتدار آکر دوسرے شخص کو سر عام پھانسی دیدی

لغمان میں 5 افراد کو قتل کرنے کے الزام میں سزا دی گئی، سزا کو 2 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسے دیکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

افغانستان میں طالبان نے 15 اگست 2021 کو برسر اقتدار آنے کے بعد دوسری سر عام پھانسی پر عمل کردیا۔ لغمان میں پانچ افراد کے قاتل کو سر عام پھانسی دی گئی اور سزا پر عمل کو براہ راست 2 ہزار افراد نے دیکھا۔

ریاست لغمان کے حکام نے ایک بیان میں کہا کہ ملزم کو ریاست کے مرکز سلطان غازی بابا کے قصبے میں سرعام پھانسی دی گئی۔ سر عام سزا دینے کا مقصد دوسروں کو سبق دینا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کا نام اجمل ابن نسیم ہے۔ قاتل اجمل کے رشتہ دار بھی اس کو سرعام پھانسی کو دیکھنے والوں میں شامل تھے۔

واضح رہے طالبان نے اپنے حالیہ دور حکومت میں پہلی پھانسی گزشتہ برس صوبہ فراہ میں دی تھی۔ یاد رہے 1996 سے لیکر 2001 تک بھی طالبان نے افغانستان میں حکومت کی تھی۔ اس وقت طالبان کی جانب سے سرعام سزائے موت دینے کا رجحان زیادہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں