میں پوتین کی حیاتیاتی ماں ہوں: ایک پراسرار معمر خاتون کے دعوے کی گونج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

’’ماں کا دل اس کا رہنما ہوتا ہے‘‘ ان الفاظ کے ساتھ ایک پراسرار معمر خاتون نے اصرار کیا ہے کہ وہ روسی صدر پوتین کی حیاتیاتی ماں ہیں۔ حال ہی میں یہ خاتون اپنا دعویٰ لے کر میڈیا میں نظر آئی ہے۔

ویرا پوٹینا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے پوتین کو اپنے طویل عرصے سے کھوئے ہوئے بیٹے کے طور پر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ انہیں اس وقت ٹی وی پر دیکھا جب وہ 1999 میں صدر کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔

’’ ٹائمز‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پراسرار بوڑھی عورت نے اپنے خاندان کے بارے میں اپنی کہانی اس وقت بیچنا شروع کی جب وہ ستر کی دہائی میں تھی۔ اس معمر خاتون نے اپنے پڑوسیوں، صحافیوں اور روسی و جارجیائی سکیورٹی سروسز کی مشکوک شخصیات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ گفتگو کی۔ یہ خاتون جارجیان میں رہتی ہے۔

معمر خاتون نے بتایا کہ میرے کھو جانے والے بیٹے کا نام ’’ فووا‘‘ تھا اس لیے میں پوتین کو بھی فووا کے نام سے ہی پکارتی ہوں۔ فووا 1950 میں میرے اپنے ہم جماعت پلاٹون پریالوو کے ساتھ مختصر تعلقات کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس وقت میں روس کے اپنے آبائی شہر اوزیورسک کے قریب زراعت کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔

اس نے دعویٰ کیا کہ یہ رشتہ اس وقت ختم ہو گیا جب اسے پتہ چلا کہ پریالوو شادی شدہ ہے اور 1952 میں وہ اپنے نئے شوہرجیورجی اوسیپاہولی جو ایک جارجیائی فوجی تھا کے ساتھ تبلیسی سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع گاؤں میتکی چلی گئی۔

خاتون نے کہا میرا بیٹا فووا مقامی سکول میں اپنی کلاس میں سب سے ذہین تھا، اسے اسے پڑھنے، خطاطی، ماہی گیری اور روسی لوک کہانیوں کا شوق تھا۔ یہ ایک جارحانہ شخصیت رکھتا تھا۔ اسی لیے اس کے دوسرے بچوں کے ساتھ کشتی لڑنے اور پڑوسی کے مرغیوں پر حملہ کرنے کے واقعات بھی تھے۔

خاتون نے مزید کہا کہ میرا شرابی شوہر میرے بیٹے کے خلاف ہونے لگا۔ وہ فووا کو اپنے ساتھ رکھنا نہیں چاہتا تھا۔ میں اپنے بیٹے کو ساتھ رکھنے کے لیے خاندان کے مختلف افراد کے پاس لے گئی۔ فووا کو اپنے والد کے پاس چھوڑ دیا۔ اپنے شوہر کے ساتھ صلح کرنے کے بعد میں فووا کے بغیر جارجیا واپس آگئی۔ خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو مجرم محسوس کرتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس نے بتایا کہ جب میرے والد بہت بیمار ہوئے تو انہوں نے 9 سال کے لڑکے پوتین کو گود لینے والے والدین کے پاس بھیج دیا۔

خاتون نے بتایا کہ میرے بیٹے فووا نے کچھ وقت کسی یتیم خانے یا فوجی بورڈنگ سکول میں گزارا ہوگا۔ خاتون نے کہا کہ فووا کو لینن گراڈ کے اس جوڑے نے گود لیا تھا جسے خود پوتین نے ہمیشہ اپنے والدین کے طور پر بیان کیا ہے۔

وکی پیڈیا سے
وکی پیڈیا سے

بوٹینا نے الزام لگایا کہ سیکیورٹی سروسز کے ارکان نے اس کے گاؤں میتیکھی کا دورہ کیا، اسے اور مقامی آبادی کو خبردار کیا کہ وہ اپنی کہانی نہ بتائیں۔ انہوں نے اس کے دو لڑکوں کی تقریباً تمام تصاویر ہٹا دیں۔

خاتون کی تین بیٹیوں نے بھی اسے میڈیا کی غیر ضروری توجہ سے بچانے کی کوشش کی لیکن خاتون یہ دعویٰ کرکے شہرت حاصل کرتی رہی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یوکرین پر پوتین کے حملے نے ان کے بارے میں ان کا نظریہ بدل دیا ہے؟ تو پوتینا نے جواب دیا "آخر میں میں ان کی ماں ہوں۔"

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے قبل ازیں اس کہانی کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سچ نہیں ہے اور حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ لیکن پوتینا کی کہانی میں دلچسپی برقرار رہی کیونکہ پوتین نے اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم تفصیلات فراہم کیں۔

واضح رہے پوتینا 6 ستمبر 1926 کو پیدا ہوئیں اور 31 مئی 2023 کو 96 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ پیوٹن 1952 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں پیدا ہوئے تھے جو پہلے لینن گراڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں