چینی صدر کو ’آمر‘ قرار دینے کے بعد جوبائیڈن ان سے جلد ملاقات کے لیے بھی پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو زور دے کر کہا ہے کہ وہ اب بھی چینی صدر شی جن پنگ کو ایک "آمر" قرار دینے کے بعد ان سے "عن قریب" ملاقات کی امید رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کی طرف سے شی جن پنگ کو ’ڈکٹیٹر‘ قرار دینے پر چین نے جوبائیڈن کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔

بائیڈن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ "مجھے امید ہے کہ مستقبل قریب میں کسی وقت صدر شی سے ملاقات کروں گا۔"

"چینی عزت اور وقار توہین"

بائیڈن نے منگل کے روز پریس کے سامنے ڈیموکریٹک پارٹی کے فنڈ ریزر میں خطاب کرتے ہوئے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کو "آمر" رہ نماؤں سے تشبیہ دی تھی۔

بیجنگ نے ان ریمارکس کا فوری جواب دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چینی صدر کو اس طرح بیان کرنا ریاست کے سیاسی وقار کی خلاف ورزی ہے۔

امریکی صدر کے بیانات اس مختصر دورے کے دو دن بعد سامنے آئے ہیں۔ ان کا یہ بیان وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کے دورہ چین سے کچھ دیر بعد سامنے آیا تھا۔ بعض مبصرین نے امریکی صدر کے اس بیان کو حیران کن قرار دیا اور کہا کہ بلنکن نے جو معاملات طے کیے تھے جوبائیڈن نے ایک بیان سے ان پر پانی پھیر دیا۔

بائیڈن نے مزید کہا کہ جس وجہ سے شی جن پنگ بہت پریشان تھے وہ جاسوس غبارے کا مار گرایا جانا تھا جس میں جاسوسی آلات سے بھرے دو صندق تھے، کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ وہاں موجود ہے۔وہ انتہائی سنجیدگی سے بات کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آمروں کی بڑی شرمندگی ہے، جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے۔"

دوسری طرف سے چینی وزارت خارجہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے چینی صدر کو "آمر" قرار دینا چین کے سیاسی وقار کی شدید خلاف ورزی اور سیاسی اشتعال انگیزی کے مترادف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں